
خلیج اردو: دبئی میں ایک شخص نے پولیس افسر کو جیل سے فرار ہونے میں مدد کرنے کیلئے پچاس ہزار درہم نقد رقم ، ایک مرسڈیز ، رولیکس گھڑی اور 20،000 درہم کی ماہانہ ادائیگی بطور رشوت دینے کی پیشکش کردی۔
دبئی فوجداری عدالت کو بتایا گیا کہ 40 سالہ مدعا علیہ کو 18 جون کو سائبر کرائم کے جرم میں اور ملک بدر ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بر دبئی پولیس اسٹیشن میں نظربند ہوتے ہی ، پاکستانی مجرم نے 21 جون کو رقم اور عیش و آرام کی چیزوں سے افسر کو رشوت دینے کی کوشش کی۔
سارجنٹ رید عبد الرحیم نے کہا کہ اس مجرم نے عربی زبان میں سرگوشی کے انداز میں مجھ سے مدد کی درخواست کی اور پھر کہا کہ میں اس فرار میں مدد کرنے کے بدلے میں وہ سب دے سکتا ہوں جو مجھے چاہیے، تاہم مجھے اس رشوت سے انکار کرنے پر بعد میں سرکار کیطرف سے ایمانداری پر ایک انعام بھی ملا۔
"میں نے اتفاق کرنے کا بہانہ کیا جس کے بعد اس نے باہر سے جیل سے دو افراد کو بلایا۔”
ملزم نے ان افراد سے رشوت کا 15،000 درہم حصہ تیار کرکے اپنے ساتھ تھانے لیکر آنے کا کہا اور افسر سے وعدہ کیا کہ وہ آزاد ہونے پر باقی رقم ادا کرے گا۔
"اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ مجھے فرار ہونے کے بعد پولیس کے پکڑے جانے سے بچنے میں بھی اس کی مدد کرنی ہوگی۔”
اگلی صبح پولیس اہلکار نے سینئر افسروں کو واقعے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد مدعا علیہ کی رشوت کی پیش کش کا اعادہ کرتے ہوئے ریکارڈنگ کی گئی جس پر اسے پکڑ لیا گیا۔
جب دو دیگر پاکستانی افراد، پیسے لے کر اسٹیشن پہنچے تو انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔
تینوں نے رشوت کے الزامات کی تردید کی مگر کیس کا فیصلہ 25 اکتوبر کو سنایا جائے گا







