
خلیج اردو: وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن 15 جون سے کھلے آسمان تلے کام کرنے پر دوپہر ساڑھے 12 سے تین بجے تک پابندی کو شروع کرنے جارہی ہے جس پر 15 ستمبر تک عملدرآمد رہے گا – لیبر تعلقات کے قواعد سے متعلق وفاقی قانون کے تحت ہونے والے اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ صبح اور شام کی شفٹوں میں یومیہ اوقات کار ، آٹھ گھنٹوں سے زائد کے نہیں ہوسکتے ۔ اگر محنت کش کو 24 گھنٹوں کے اندر آٹھ گھنٹے سے زائد کام کرنا پڑا تو 8 گھنٹوں سے اضافی وقت کا معاوضہ اوور ٹائم کے طور پر ادا کیا جائے گا – کوئی بھی ادارہ اس فیصلے کی شرائط و ضوابط کو پورا نہیں کرے گا اسے فی محنت کش کم از کم 5 ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ 50 ہزار درہم جرمانہ ہوگا ۔ ایسی خلاف ورزی کے مرتکب اداروں کی فائل معطل کردی جائے گی یا پھر وزارت انسانی وسائل کے درجہ بندی نظام میں اسکے سٹیٹس کو کم تر کردیا جائے گا – اس فیصلہ پر پیروی کیلئے آجر کیلئے لازمی ہے کہ وہ کام کرنے کی جگہ کے نمایاں مقام پر یومیہ اوقات کار کو آویزاں کرے ، عربی کے علاوہ اسے اس زبان میں بھی تحریر کیا جائے جسے وہاں کے محنت کش سمجھ سکتے ہوں –
فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ آجر کو محنت کشوں کی حفاظت کیلئے درکار ضروری آلات و سامان فراہم کرے ، دیگر متعلقہ اقدامات بروئے کار لائے ، وزارت کے فیصلوں کے مطابق لیبر قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ محنت کش بھی حفاظتی اقدامات و تقاضوں کی پیروی کریں ۔ وزارت نے معاشرے کو کہا ہے کہ قانون و ضابطے کی کسی بھی خلاف ورزی کے بارے میں ٹال فری نمبر 80060 پر اطلاع کریں جو چار مختلف زبانوں میں روزانہ 24 گھنٹے کھلا رہتا ہے






