خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے خواتین،بچوں کیخلاف تشدد کے انسداد میں اہم کامیابیاں حاصل کرلیں

خلیج اردو: راس الخیمہ میں خواتین اور بچوں کے لئے امان پناہ گاہ کی منیجر خدیجہ محمد العاجل نے کہا ہےکہ متحدہ عرب امارات نے خواتین اور بچوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے انسداد میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

امارات نیوز ایجنسی (وام) کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کو ترجیح دی ہے جس کا مقصد ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کرنا ہے تاکہ احتیاطی تدابیراور ضروری قوانین کے نفاذ کے ذریعے تشدد کے متاثرین کوخصوصی مراکز کے ذریعے ضروری دیکھ بھال اور مدد فراہم کرکے انکی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس شیلٹر نے 2021 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں 33 مقدمات نمٹائے جبکہ اسے 52 بچوں کو گود لینے کی درخواستیں موصول ہوئیں ۔

انہوں نے کہا کہ گود لینے کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت گود لینے والے خاندان کااماراتی ہونا ضروری ہےتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گود لینے والے بچے کی پرورش محفوظ ہو اور صحت مند ماحول میں ہو۔

انسانی سمگلنگ کے متاثرین کی مدد میں پناہ گاہ کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کونسل کے رکن اور راس الخیمہ کے حکمران شیخ سعود بن صقرالقاسمی کی ہدایت پر قائم کیا گیا ہے تاکہ امارت کو ہر قسم کے تشدد کے پاک کیا جاسکے۔

اس پناہ گاہ نے 89 مقامی اور بین الاقوامی اقدامات کا اہتمام کیا جن کا مقصد اماراتی معاشرے میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گاہ کی ہاٹ لائن پر 620 انکوائریاں موصول ہوئیں ۔

یہ ہاٹ لائن 2019 میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے خلاف کانفرنس۔ حقیقت اور حکمت عملی کے دوران قائم کی گئی تھی۔ خدیجہ محمد العاجل نے کہا اس پناہ گاہ میں 25 کیسز کی گنجائش ہے جن کا مقصد متاثرین کے لیے ایک محفوظ ماحول بنانا ہے۔

انہوں نے کہا ایک نئی جامع پناہ گاہ قائم کی جائے گی جس میں بڑی گنجائش اور زیادہ سہولیات بشمول آرٹس اور ٹریننگ سہولیات، ایک تھیٹر، ایک ورکشاپ ہال، کھیلوں کی سہولیات اور بچوں کے لیے ایک پارک شامل ہوگا ۔

COVID-19 وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے پناہ گاہ کے ذریعے اختیار کیے گئے طریقہ کار پرانہوں نےکہا کہ متعلقہ قومی حکام کی طرف سے تجویز کردہ احتیاطی پروٹوکول پر عمل درآمد کیا گیاہے اور ایک محفوظ ماحول بنانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی قومی کوششوں کی حمایت کے لیے خصوصی قرنطینہ کمرے مختص کیے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button