
خلیج اردو
دبئی میونسپلٹی کی جانب سے قائم کیے گئے نئے پالتو جانوروں کے شیلٹر کو شہریوں کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ مرکز کھلنے کے صرف 20 گھنٹوں میں 18 بلیاں نئے گھروں میں پہنچ چکی ہیں یعنی اوسطاً ہر گھنٹے ایک بلی کو گود لیا گیا۔
دبئی میونسپلٹی کے ویٹرنری ڈاکٹر عبداللہ عبداللطیف الحمادی کے مطابق شیلٹر میں آوارہ، زخمی، لاوارث یا گمشدہ بلیاں لائی جاتی ہیں اور اگر کسی بلی کا مالک موجود ہو تو اسے اس سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مالک نہ ملنے کی صورت میں بلی کا مکمل طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ضروری ویکسین اور ادویات فراہم کرنے کے بعد اسے گود لینے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
وارسان تھری میں قائم اس جدید شیلٹر میں بیک وقت تقریباً 200 بلیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ ہر بلی کے لیے صحت کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے جبکہ گود لینے کے لیے تیار نہ ہونے والی بلیوں کو الگ حصے میں رکھا جاتا ہے۔
گود لینے کے لیے تیار بلیوں کو ایک خصوصی ’پاسپورٹ‘ بھی جاری کیا جاتا ہے جس میں ان کی طبی تاریخ اور ویکسینیشن کا ریکارڈ درج ہوتا ہے۔
مرکز میں مختلف عمر کی بلیاں موجود ہیں جن میں ننھے بلی کے بچے بھی شامل ہیں۔ ’لٹل بیئر‘ نامی ایک انتہائی پیاری اور ملنسار بلی بھی اپنے مستقل گھر کی منتظر ہے۔
بلی گود لینے کے خواہشمند افراد کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے گھر میں بلی پالنے کے لیے مناسب جگہ موجود ہے۔ بلی گود لینے کی کوئی فیس نہیں تاہم رہائشیوں کو 230 درہم سروس چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
مرکز پیر سے جمعرات صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کھلا رہتا ہے۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق بلی گود لینے سے پہلے شہریوں کو اپنے فیصلے پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے کیونکہ پالتو جانور کوئی کھلونا نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری ہے۔ مرکز شہریوں کو بلی کے مزاج اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتا ہے تاکہ ہر شخص اپنی ضروریات کے مطابق مناسب بلی کا انتخاب کر سکے۔







