لائف سٹائل

روزانہ چہل قدمی سے الزائمر اور یادداشت کی کمزوری کے خطرات میں نمایاں کمی، تحقیق

 

خلیج اردو

دبئی: ایک نئی طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ چہل قدمی کرنے سے یادداشت کی کمزوری اور دماغی زوال کے خطرات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جنہیں موروثی طور پر الزائمر کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ تحقیق معروف جریدے *Lancet Public Health* میں شائع ہوئی، جس کے مطابق روزمرہ چہل قدمی دماغی صحت اور عمومی تندرستی کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

یو اے ای کے ماہرینِ اعصاب کا کہنا ہے کہ باقاعدہ چہل قدمی دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے، دماغ تک خون کی روانی بڑھاتی ہے اور *Brain-Derived Neurotrophic Factor (BDNF)* کے اخراج کو فروغ دیتی ہے، جو دماغی خلیات کی نشوونما اور ان کے استحکام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

میڈ کیئر رائل اسپیشیالٹی ہسپتال کی ماہرِ اعصاب ڈاکٹر نُہا عبد الواحد کے مطابق، "بزرگ افراد میں روزانہ چہل قدمی یادداشت کو مستحکم رکھنے اور ڈیمنشیا کے آغاز میں تاخیر کا باعث بنتی ہے، جبکہ وہ افراد جنہیں جینیاتی طور پر الزائمر کا خطرہ ہوتا ہے، انہیں اس عادت سے مزید فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ معمولی اضافہ بھی دماغی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔”

ڈاکٹر نُہا نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 7,000 قدم چلنا دائمی بیماریوں اور دماغی کمزوری کے خطرات کو کم کر سکتا ہے، جبکہ ہفتے میں صرف 35 منٹ کی معتدل رفتار سے چہل قدمی ڈیمنشیا کے خطرے میں 41 فیصد تک کمی لا سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، الزائمر یو اے ای میں ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم ہے، اور اس مرض سے متعلق علاج و نگہداشت پر سالانہ تقریباً 1.35 بلین ڈالر (0.19 فیصد جی ڈی پی) خرچ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں 2050 تک ڈیمنشیا کے کیسز میں 367 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

برجیل میڈیکل سینٹر، الشمخہ کی ماہرِ اعصاب ڈاکٹر اسماء مشتاق نے کہا کہ "چہل قدمی بلڈ پریشر، ذیابطیس اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھتی ہے، جو ڈیمنشیا کے اہم اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔” انہوں نے بزرگوں کو مشورہ دیا کہ وہ میڈیٹرینین طرزِ خوراک اپنائیں، جس میں پھل، سبزیاں، مچھلی، زیتون کا تیل، مناسب نیند اور ذہنی مشغولیت شامل ہو۔

انٹرنیشنل ماڈرن ہسپتال دبئی کی ماہرِ اعصاب ڈاکٹر پونم آواتارے نے وضاحت کی کہ "چہل قدمی جیسے معمولی جسمانی مشاغل دماغ میں موجود نیوروٹروفک عوامل کو متحرک کرتے ہیں، دماغی خلیات کی لچک بڑھاتے ہیں، سوزش اور آکسیڈیٹیو اسٹریس کو کم کرتے ہیں — یہ تمام عوامل الزائمر کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ محض 3,800 قدم چلنے سے ڈیمنشیا کے خطرے میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ صرف پانچ منٹ کی اضافی معتدل جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

ڈاکٹر پونم کے مطابق ہفتے کے بیشتر دنوں میں 30 منٹ کی چہل قدمی ایک بہترین آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ "چہل قدمی سب سے محفوظ، آسان اور کم خرچ طریقہ ہے جو ہم دماغی صحت کو مضبوط رکھنے کے لیے تجویز کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ الزائمر کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی، لیکن اس کے آغاز کو مؤخر اور شدت کو کم کر سکتی ہے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button