
دبئی: خواتین کے لیے رجونورتی (Menopause) کا مرحلہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ہارمونز میں تبدیلی نہ صرف موڈ، نیند اور توانائی کو متاثر کرتی ہے بلکہ بالوں کی صحت پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ دبئی کے ماہرین کے مطابق خواتین میں اس دوران بالوں کا پتلا ہونا، جھڑنا یا ان کی چمک میں کمی بنیادی طور پر ہارمونی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
ماریا ڈاؤلنگ، بانی ماریا ڈاؤلنگ سیلون دبئی کے مطابق "جب ایسٹروجن اور پروجیسٹرون دونوں کی سطح میں کمی آتی ہے تو بال کمزور اور پتلے ہو جاتے ہیں۔ بعض خواتین میں چہرے پر بال بڑھنے لگتے ہیں، خاص طور پر ٹھوڑی یا اوپری ہونٹ پر۔”
ڈاکٹر خلود الاوادی، صدر مینوپاز چیپٹر ایمریٹس میڈیکل ایسوسی ایشن، وضاحت کرتی ہیں کہ "ایسٹروجن وہ بنیادی ہارمون ہے جو بالوں کی نشوونما کو فعال رکھتا ہے اور سر کی جلد میں خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے۔ اس کی کمی سے بالوں کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے اور وہ آسانی سے ٹوٹنے یا جھڑنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس مردانہ ہارمونز (اینڈروجنز) کی نسبتاً زیادتی بالوں کے فولیکلز کو متاثر کر کے پتلا پن پیدا کرتی ہے۔”
ڈاکٹر حنابی ہاشم کٹی کے مطابق، "زیادہ تر خواتین میں بالوں کی کمی بتدریج شروع ہوتی ہے، خاص طور پر سر کے درمیان حصے یا ’کاؤن‘ پر۔ بال اپنی موٹائی، چمک اور گھنے پن سے محروم ہو جاتے ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ رجونورتی کے دوران بالوں کا جھڑنا عام طور پر سر کے تمام حصوں میں یکساں ہوتا ہے، جب کہ دیگر امراض جیسے آئرن یا وٹامن ڈی کی کمی، تھیائرائیڈ کی خرابی، یا خودکار قوتِ مدافعت کی بیماریوں سے ہونے والا بالوں کا جھڑنا مختلف نوعیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر جبیثہ یوسف، ماہر امراض جلد میڈ کیئر رائل اسپیشلٹی اسپتال دبئی، کے مطابق بالوں کی درست تشخیص کے لیے اسکالپ معائنہ، ٹرائکوسکوپی یا بلڈ ٹیسٹ ضروری ہیں تاکہ وجوہات کو درست انداز میں سمجھ کر علاج کیا جا سکے۔
علاج اور دیکھ بھال
ماریا ڈاؤلنگ کے مطابق صحت مند بالوں کی بنیاد صحت مند اسکالپ ہے۔ باقاعدہ اسکالپ ڈیٹاکس، مائیکرونیڈلنگ، اور مناسب شیمپو سے صفائی ضروری ہے۔ ٹاپیکل مائن آکسیڈل، کم شدت والی لیزر تھراپی، یا پی آر پی (Platelet-Rich Plasma) جیسے علاج بالوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں۔
ڈاکٹر یوسف کے مطابق جدید ری جنریٹو اور ہارمونی تھراپیز جیسے ایکسوسوم ٹریٹمنٹس یا اسپائرونولاکٹون جیسی دوا (طبی نگرانی میں) مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
غذائیت کی اہمیت
متوازن خوراک بالوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پروٹین بالوں کی ساخت (کیراتن) کا بنیادی جزو ہے۔ ماریا ڈاؤلنگ کے مطابق، "یومیہ تقریباً 60 گرام پروٹین لینا مفید ہے۔ آئرن، وٹامن ڈی، وٹامن اے، وٹامن سی، اور زنک کی کمی بالوں کے جھڑنے میں اضافہ کرتی ہے۔”
ڈاکٹر حنابی ہاشم کٹی کا کہنا ہے کہ "فائٹواسٹروجنز اور صحت مند چکنائیاں جیسے فلیکس سیڈ، اخروٹ اور سالمون مچھلی رجونورتی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ورزش، یوگا، اور ذہنی سکون بالوں کے ساتھ مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔”
زندگی کے رویے اور جذباتی پہلو
ماہرین کے مطابق بالوں کا جھڑنا خواتین کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے، مگر اس عمل کو سمجھ کر بہتر دیکھ بھال ممکن ہے۔ ڈاکٹر خلود الاوادی کہتی ہیں کہ "رجونورتی پر بات کرنا ضروری ہے۔ جب خواتین اپنے تجربات بانٹتی ہیں اور طبی رہنمائی حاصل کرتی ہیں تو یہ احساس کم ہوتا ہے کہ وہ اکیلی ہیں۔”
ڈاکٹر حنابی ہاشم کٹی کے مطابق "رجونورتی ایک قدرتی عمل ہے، بیماری نہیں۔ درست علاج، متوازن خوراک، اور خود پر توجہ دے کر خواتین اپنے بالوں اور اعتماد دونوں کو بحال کر سکتی ہیں۔”







