
خلیج اردو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ادارہ شماریات کے افسر احسان الحق کی سروس پروموشن سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مقدمے کے فیصلے تک ادارہ شماریات میں تمام ڈیپارٹمنٹل پروموشنز روک دی جائیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جب تک کیس عدالت میں زیر سماعت ہے، کوئی بھی پروموشن فائنل آرڈر سے قبل موثر نہیں ہوگی، اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا ہر فیصلہ عدالت کے حکم سے مشروط ہوگا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان میں ایسا طرزعمل پایا جاتا ہے کہ جو افسر عدالت سے رجوع کرتا ہے، بعد میں اسے سبق سکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کسی کے خلاف فیصلہ دے تو اس کی عزتِ نفس مجروح ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے، اور پھر گروپ بنا کر اس افسر کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص غلط فہمی میں عدالت آئے، لیکن اس کے باوجود منفی سوچ جنم لے لیتی ہے، جبکہ افسران میں خوف کا ماحول ختم ہونا چاہیے کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ادارے اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے، پہلے کیڈر سے متعلق مسائل ہوتے تھے، اب کنفیوژن پیدا کی جاتی ہے۔ من پسند فہرستوں میں افسران کو شامل کیا جاتا ہے جس سے میرٹ متاثر ہوتا ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا کہ جب سینئیر افسر جونئیر کو اپنے اوپر ترقی پاتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ جونئیر کا اوپر آ جانا سینئیر کی پیشہ ورانہ خودداری پر اثر ڈالتا ہے۔
کمرہ عدالت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن افسر اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن پیش ہوئے۔ عدالت نے ادارہ شماریات میں تمام ڈیپارٹمنٹل پروموشنز معطل کرتے ہوئے سماعت 25 فروری تک ملتوی کر دی۔






