
خلیج اردو
راولپنڈی: بنوں کینٹ پر دہشت گردوں کے ایک بڑے حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس کے نتیجے میں 16 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 5 فوجی جوان شہید ہوئے۔ حملے میں 13 معصوم شہری بھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ 32 زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑیاں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دیں، جس سے مسجد اور قریبی رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں افغان شہری ملوث ہیں، اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود خوارج رہنماؤں نے کی تھی۔
پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
حملے کے بعد صدر، وزیراعظم، وزیرداخلہ اور چاروں وزرائے اعلیٰ نے سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا اور شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بہادر شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
یہ حملہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا تسلسل ہے، جس میں افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ پاکستان مسلسل بین الاقوامی برادری اور افغان حکام کو متنبہ کرتا آ رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ خطے میں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیکیورٹی حکام نے علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے اور بنوں کینٹ سمیت دیگر حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔






