
خلیج اردو
اسلام آباد: جسٹس امین الدین نے کہا دنیا جہاں کی باتیں کریں مگر آئینی بینچ پر بات نہیں کرنی،،، آپ سمجھتے ہیں کہ آئینی بینچ کیس نہیں سن سکتا تو چیف جسٹس کے پاس جائیں،، جسٹس امین الدین نے وکیل اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ آپ 24 یا 16 ججز میں سے کس پر متفق ہیں؟
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ جب چیف جسٹس آرڈر کریں گے ہم یہ ٹوپی اتار کر دوسری ٹوپی پہن لیں گے،، ہمارے پاس دو رول ہیں آئینی بینچ اور سپریم کورٹ کے ممبر بھی،، اس بار جو آپ کہیں گے ہم آپ کا نام فیصلے میں لکھیں گے،، آپ کہتے ہیں کہ بے شک 24 ججز ہوں لیکن وہ آئینی بینچ نہ کہلائے، سپریم کورٹ کہلائے؟
جسٹس شاہد بلال نے استفسار کیا کہ آپ نے کہہ دیا کہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے یہ 8 رکنی بینچ کیس نہیں سکتا،، آپ کے خیال میں وہ کونسا بینچ ہونا چاہیے جو 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف کیس کو سن سکتا ہے؟ وکیل اکرم شیخ کی 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ کی حمایت،، کہا 26ویں آئینی ترمیم سے پہلے اور بعد والے تمام ججز کو فل کورٹ کا حصہ بنایا جائے۔ مزید جج اس عدالت میں شامل نہ کیے جائیں،، یہ آئینی بینچ اس کیس کو سن ہی نہیں سکتا، یہ آئینی بینچ تو چھبیسویں ترمیم کے تحت وجود میں آیا ہے،،، تمام موجود ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ اس کیس کو سنے،، 26ویں آئینی ترمیم ایک متنازعہ ترمیم ہے۔






