پاکستانی خبریں

دبئی عدالت نے 456 ملین ڈالر کے مبینہ کرپٹو ریزرو فراڈ پر عالمی اثاثے منجمد کر دیے

خلیج اردو
دبئی: ڈی آئی ایف سی کی ڈیجیٹل اکانومی کورٹ نے کرپٹو کرنسی *اسٹیبل کوائن* سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا بڑا فیصلہ دیتے ہوئے دنیا بھر میں 456 ملین ڈالر (1.67 بلین درہم) سے زائد کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس مقدمے میں سنایا ہے جس میں الزام ہے کہ اسٹیبل کوائن *TrueUSD (TUSD)* کے بیک اَپ ریزروز سے تقریباً نصف ارب ڈالر نکال کر نجی سرمایہ کاری میں منتقل کیے گئے۔

یہ عالمی فریزنگ آرڈر 17 اکتوبر کو جسٹس مائیکل بلیک نے جاری کیا، جو دبئی میں رجسٹرڈ *Aria Commodities DMCC* سمیت اُن تمام بینکوں اور اداروں پر لاگو ہوتا ہے جہاں یہ رقم یا اس سے خریدے گئے اثاثے موجود ہیں۔ اس حکم کے تحت رقم کو دنیا کے کسی بھی حصے میں منتقل یا چھپایا نہیں جا سکتا، اور خلاف ورزی پر جرمانہ یا قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2021 اور 2022 کے دوران جعلی ہدایات اور جعل ساز دستاویزات کے ذریعے ان ریزروز سے تقریباً 456 ملین ڈالر نکال کر کموڈیٹی ٹریڈنگ اور مائننگ منصوبوں میں لگائے گئے۔ TUSD کے مالک ادارے *Techteryx Ltd* — جو چینی کرپٹو انٹرپرینیور جسٹن سن کے زیرِ کنٹرول ہے — نے بتایا کہ یہ کمی رواں سال آڈٹ کے دوران سامنے آئی۔

جسٹن سن، جو TRON بلاک چین کے بانی بھی ہیں، نے کہا کہ عوام کو نقصان سے بچانے کے لیے کمپنی نے سینکڑوں ملین ڈالر فوری ریزروز میں شامل کیے تاکہ ہر TUSD اپنی قدر کے مطابق ایک امریکی ڈالر کے برابر رہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی عوامی سرمایہ کار کو نقصان نہیں ہوا۔

Techteryx نے نقصان کی ریکوری کے لیے ہانگ کانگ، کیمین آئی لینڈز اور اب دبئی سمیت مختلف دائرہ اختیار میں قانونی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ دبئی میں کمپنی نے فنڈز کے غائب ہونے سے بچاؤ کے لیے عالمی فریزنگ آرڈر کی درخواست دی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

جسٹن سن کے مطابق عدالت کا فیصلہ ’’منصفانہ اور مضبوط‘‘ ہے اور ریکوری کے عمل کا اہم قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش میں اُس نیٹ ورک کی نشاندہی ہو رہی ہے جو مبینہ طور پر جعلی دستاویزات اور کیک بیکس کے ذریعے سرحد پار منتقلی میں شامل تھا۔

ڈی آئی ایف سی کا ڈیجیٹل اکانومی کورٹ بلاک چین، کرپٹو کرنسی اور نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق تنازعات کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ دبئی ڈیجیٹل اثاثوں کے فیوچر کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے عدالتی نظام کو پوری طرح استعمال میں لا رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button