
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات کی 40 سالہ مقیم امل عثمان تین ماہ کے طویل کوما سے اس حالت میں جاگیں کہ نہ وہ بول سکتی تھیں، نہ حرکت کر سکتی تھیں اور کمرہ مشینوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی بے بسی میں انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک بچی کو جنم دے چکی ہیں — ایک خبر جسے امل نے ’’زندگی اور موت کے درمیان بھٹکنے کے بعد سب سے بڑی خوشی‘‘ قرار دیا ہے۔ انہیں کلیولینڈ کلینک ابوظبی میں علاج کے دوران متعدد بار اعضا کی ناکامی، ایمرجنسی سرجریز اور دنیا کے طویل ترین ECMO کیسز میں سے ایک کا سامنا رہا۔
امل کا مسئلہ عمرہ کے دوران شروع ہوا جب کھانسی اور بخار نے شدید نوعیت اختیار کرلی اور وہ *ARDS* میں تبدیل ہو گیا۔ کوما سے جاگنے پر انہوں نے اجنبی لوگوں، مشینوں اور ٹیوبز سے بھرا ہوا کمرہ دیکھا۔ کچھ دیر بعد شوہر نے بتایا کہ وہ تین ماہ سے کوما میں تھیں اور ان کی بیٹی اب ساڑھے چار ماہ کی ہے۔ امل کے مطابق ’’یہ لمحہ امید کی واپسی کا آغاز تھا۔‘‘
دلچسپ بات یہ کہ کوما میں ان کے سامنے اپنے شوہر کے نئے گھر میں منتقلی کے مناظر آتے رہے، اور ہوش میں آنے پر انہوں نے جانا کہ یہ سب حقیقت میں بھی ہوا تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق امل کو شدید انفلوئنزا، ARDS، ہیموتھوریکس اور نیوموتھوریکس جیسی پیچیدگیوں کا سامنا رہا، جس پر انہیں *324 دن* تک ECMO پر رکھا گیا — جو دنیا کے طویل ترین کیسز میں شامل ہے۔
گیارہ ماہ کے طویل اسپتال قیام کے دوران امل مکمل طور پر مفلوج تھیں۔ فزیوتھراپسٹ رامی بویلس کے مطابق وہ ہاتھ اور پیر تک نہیں ہلا سکتی تھیں، مگر مسلسل ری ہیبیلیٹیشن سے وہ دوبارہ کھڑی ہونے کے قابل ہوئیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ’’ان کی کہانی ٹیم ورک اور امید کا ثبوت ہے۔‘‘
ری ہیبیلیٹیشن کے دوران ہر قدم پر ان کے ساتھ ڈاکٹرز، نرسز، آکسیجن اور مشینیں ساتھ چلتی تھیں۔ اگرچہ وہ زندگی کی جنگ جیت چکی ہیں مگر علاج ابھی باقی ہے۔ ایک پیچیدگی کے باعث ان کا کولون متاثر ہوا اور وہ بیرونی کولون پاؤچ استعمال کر رہی ہیں۔ امل کے مطابق انہیں کولون ٹرانسپلانٹ کی فوری ضرورت ہے اور سرجری مکمل کرنے کے لیے مالی مدد درکار ہے۔







