
خلیج اردو
پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی حالیہ پریس بریفنگ میں پہلی بار بانی پی ٹی آئی عمران خان کو براہِ راست "سیکیورٹی تھریٹ” قرار دے دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ "اپنی ذات کا قیدی ایک شخص پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ایک بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ اس کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں۔”
ترجمان پاک فوج نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا: "تم ہو کون؟ تمہیں کیا پریشانی ہے؟ یہ کس کی زبان بول رہے ہو؟ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟” انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نہ صرف فوج پر الزامات لگائے بلکہ "کیا اس نے جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کرایا تھا؟ جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں پر آگ لگوا سکتا ہے، وہ پارٹی ارکان کو غدار کہنے میں کیا مسئلہ سمجھے گا؟”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عمران خان کے ٹویٹس سے "پاکستان کے غدار شیخ مجیب الرحمان کی سوچ جھلکتی ہے۔ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا تو یہ ذہنی مریض کشکول لے کر نکل پڑتا۔ پاکستان میں جھوٹ اور فریب کا یہ کاروبار مزید نہیں چلے گا۔ اس بیانیے کو پھیلانے اور سہولت کاری کی اجازت نہیں دیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ فوج نے اس سے پہلے کسی سیاستدان کو سیکیورٹی تھریٹ قرار نہیں دیا۔ "پہلے کبھی یہ نہیں ہوا جو اب ہورہا ہے۔”
ترجمان نے کہا کہ "جیل سے پاکستان مخالف بیانیہ دیا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ ذہنی مریض دیتا ہے۔ اس ایجنڈے کی خوشبو دہلی سے آتی ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا اس کے بیانیے کو پھیلا رہا ہے، افغان میڈیا بھی سہولت کار بن رہا ہے۔”
انہوں نے سوال اٹھایا: "بھارتی اور افغان میڈیا یہ بیانیہ مفت میں چلا رہے ہیں؟ ان کا بھارت اور افغانستان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ نو اور دس مئی کو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے یہی لوگ تھے۔”
پاک فوج کی سیاسی غیرجانبداری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "ہم کسی علاقے، نسل یا سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ روزانہ پاکستان کی سالمیت کے لیے جانیں دیتے ہیں۔ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوج ڈھال بن کر کھڑی ہے اور فتنہ الخوارج کے خلاف بھی یہی فوج کھڑی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے "پاک فوج سے ملنے والوں کو غدار قرار دیا، فوج پر حملے کرائے، جی ایچ کیو پر حملہ بھی اسی نے کرایا تھا۔ اس کی پوری سیاست فوج پر الزامات پر گھومتی ہے۔” ترجمان نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ "فوج لڑ نہیں سکتی، صرف سیاست کرتی ہے۔” انہوں نے کہا: "کیا فوج نے لڑ کر نہیں دکھایا؟ پوری دنیا میں اس کی گونج گئی۔”
انہوں نے فوجی قیادت اور جوانوں کے تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "آرمی چیف کے کہنے پر افسر اور جوان اپنی جانیں دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو باہر رکھا ہوا ہے، فوج میں بھیجو کہ وہ خوارج کے خلاف لڑیں۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ "مسلح افواج اور قیادت پر مزید حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اس کا بغیر دستانے پہنے جواب دیا جائے گا۔ آپ کی شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔”
خیبر پختونخوا کے حوالے سے انہوں نے کہا: "کیا خیبر پختونخوا کے عوام کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے کہ ان پر ایک ٹولہ مسلط رہے؟ گورنر راج کا فیصلہ حکومت کرے گی۔ دہشتگردی ختم کرنے کے لیے سیاسی عزم ضروری ہے۔ یہ صرف فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ صوبے کے مسائل پر بات نہیں۔ ان کی سوئی فوج پر اٹکی ہوئی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ عمران خان "خوارج سے بات کرنے کا بیانیہ بناتے ہیں، تاکہ حکومت کی کارکردگی پر کوئی بات نہ ہو۔ یہ پشاور میں خوارج کا دفتر کھولنا چاہتے تھے۔ بات چیت کی بھیک سے سیکیورٹی نہیں ملتی۔ پاکستان کی سیکیورٹی کی ضمانت کابل اور دہلی دیں گے؟”
انہوں نے کہا کہ "ریاست نے بات چیت سے کب انکار کیا؟ افغان طالبان حکومت سے مسلسل بات چیت ہو رہی ہے۔ ہمارا واضح مؤقف ہے — فتنہ الخوارج سے بات نہیں کرنی۔”
ترجمان نے کہا کہ روزانہ جوان جانیں قربان کر رہے ہیں۔ "ہمیں معلوم ہے کہ ریاست نہیں تو ہماری بھی کوئی حیثیت نہیں






