
خلیج اردو
تحریر: جرار قبزلباش
اسکردو کے دور دراز ضلع نگر میں ہیپاٹائٹس بی (HBsAg) اور ہیپاٹائٹس سی (HCV) کی اسکریننگ کے لیے ایک انقلابی پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ہے اور صحت کے شعبے میں ایک تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈائیگنوسٹک کٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو پاکستان میں صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ملک کیلیے ایک بڑی کامیابی ہے، بلکہ یہ دور دراز علاقوں کے محروم لوگوں کو زندگی بچانے والی اسکریننگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
یہ پائلٹ منصوبہ وزیر اعظم کی قومی ہیپاٹائٹس خاتمے کی پروگرام کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ مریض ہیں، اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال 1 لاکھ 50 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ نگر کے اس دور دراز علاقے میں ہیپاٹائٹس اسکریننگ کی سہولت کا آغاز حکومت کی عوام کو یکساں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر کرامت رضا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) کے تعاون سے ممکن ہونے والے اس منصوبے کے ذریعے پہلی بار اس علاقے کے رہائشیوں کو بنیادی تشخیصی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جو پہلے ان کی دسترس سے باہر تھیں۔ یہ اقدام ان کمیونٹیز کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہا ہے جو طویل عرصے سے ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اب انہیں نہ صرف بنیادی طبی سہولتیں میسر ہو رہی ہیں، بلکہ انہیں صحت مند مستقبل کی امید بھی ملی ہے۔
مقامی سطح پر تیار کردہ ڈائیگنوسٹک حل کے استعمال سے پاکستان نہ صرف اپنی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، بلکہ یہ منصوبہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے اور ہر شہری کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے صحت کے شعبے میں بڑی ترقی ممکن ہے۔






