
خلیج اردو
اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں پیر کے روز شدید بارش اور ژالہ باری نے تباہی مچا دی۔ دیوار گرنے کے باعث دو بچے جاں بحق جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
اسلام آباد میں ژالہ باری اس قدر شدید تھی کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان سے گولے برس رہے ہوں۔ بڑے سائز کے اولوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے اور باڈی پر گہرے ڈینٹ ڈال دیے۔ گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے، ٹریفک سگنلز اور سائن بورڈز بھی اس شدید ژالہ باری کی نذر ہو گئے۔ کئی گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں بھی ٹوٹ گئیں۔
شہریوں کے مطابق تیز ہوا کے جھکڑوں سے درختوں کے تنے اکھڑ گئے اور سائن بورڈز زمین بوس ہو گئے۔ سڑکوں پر سفر کرنے والے کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ ژالہ باری سے سڑکیں برف جیسی سفید ہو گئیں اور اکثر سیکٹرز میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
آئیسکو کے مطابق طوفانی موسم سے بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ مختلف علاقوں میں کھمبے گرنے اور تاریں ٹوٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے باعث 11 کے وی فیڈرز پر فالٹس اور ٹرپنگ کے باعث بجلی معطل ہو گئی۔ گولڑہ، ایف ٹن، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن، کریج فیکٹری، چونترہ، سنگجانی، فیض آباد، کمیٹی چوک اور جاپان روڈ کے فیڈرز متاثر ہوئے۔
ترجمان آئیسکو کے مطابق زیادہ تر علاقوں میں بجلی کو قلیل وقت میں بحال کر دیا گیا ہے۔
شدید ژالہ باری سے فیصل مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جبکہ مسجد کے صحن اور صفوں پر اولے بکھر گئے۔
بارش اور ژالہ باری کے دوران سی ڈی اے کا عملہ مسلسل متحرک رہا اور شہریوں کی سہولت کے لیے کام کرتا رہا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے کہا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔






