پاکستانی خبریں

بھارت کی سازشیں ناکام ہوں گی، ریاست پاکستان کے ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق

خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے پندرہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متحدہ کشمیر کے وزیراعظم ہیں اور بھارت جو مہاراجہ کے جعلی معاہدے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے دفعہ 35 اے اور 370 کو ختم کر دیا، تو خودساختہ معاہدہ بھی خود بخود ختم ہو گیا۔

چوہدری انوارالحق نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر حربی طور پر مضبوط ہیں، اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو اسے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سازشوں کے تحت ریاست اور عوام کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی ایٹمی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں ان سازشوں کا شعور رکھتے ہوئے الرٹ اور متحد ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی میں یہ جرات نہیں کہ وہ انٹرنیشنل بارڈر پار کرنے کی سوچ بھی سکے، اور جنرل سید عاصم منیر جیسے دلیر سپہ سالار کی موجودگی میں بھارت ایسا کوئی قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے 2019 کے بھارتی حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے رات کے اندھیرے میں ہمارے دو کوے مارے جبکہ ہم نے دن کی روشنی میں ان کے دو طیارے مار گرائے اور بھمبر سے ان کے ایک پائلٹ کو گرفتار کیا، جس نے کشمیریوں سے جوتیاں بھی کھائیں اور چائے بھی پی۔

چوہدری انوارالحق نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری تکلیف یہ ہے کہ میرے بچے مقبوضہ کشمیر میں روز شہید ہو رہے ہیں، بھارتی فوج پیلٹ گنوں سے کشمیریوں کی بینائی چھین رہی ہے، ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، لیکن کشمیریوں نے تحریکِ آزادی کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

اپنے ذاتی طرزِ زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ انہیں کوئی کمپلیکس نہیں، ان کی بیوی خود کپڑے دھوتی ہے، صرف چار کپڑوں کے جوڑے ہیں، تنخواہ، ٹی اے، ڈی اے نہیں لیتے اور عوام کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت جو دنیا کی چوتھی بڑی طاقت اور سوا ارب آبادی کا ملک ہے، وہ میرے صرف تین انٹرویوز برداشت نہیں کر سکا۔

چوہدری انوارالحق نے زور دیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی حرکت کی تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، ہمارا ریاستِ پاکستان کے ساتھ رشتہ مضبوط و مستحکم ہے۔ وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرائم ریٹ کم ہے اور نجی تھانوں کا کوئی رواج نہیں۔

وفد نے وزیراعظم کی پراثر گفتگو کو بے حد سراہا اور دو مرتبہ تالیاں بجا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button