پاکستانی خبریں

ایران کی ثالثی کی پیشکش، پاکستان کی امن پسندی کا اعادہ: صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ایرانی وفد کی اہم ملاقاتیں

خلیج اردو
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی اور خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون پر بھی زور دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر ایران کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے صدر پاکستان کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور واضح کیا کہ ان کا دورہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس موقع پر دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو بھرپور صلاحیت تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فریقین کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔ ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی مظالم پر بھی فریقین نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے دھماکے پر تعزیت کا اظہار کیا اور ایرانی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ تجارت، توانائی، سرحدی نظم و نسق اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

وزیراعظم نے پہلگام حملے کے بعد بھارت کے اشتعال انگیز رویے پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ بھارت پراپیگنڈے کے ذریعے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی کوشش ناقابل قبول ہے کیونکہ پانی پاکستان کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزیراعظم کو صدر پیزشکیان کی جانب سے دورہ ایران کی دعوت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایران نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی اور زور دیا کہ دونوں ممالک ضبط و تحمل سے کام لیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو پہلگام واقعے پر پاکستان کا مؤقف تفصیل سے بتایا اور کہا کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

فریقین نے علاقائی امن، دو طرفہ تعاون، اور غزہ میں اسرائیلی مظالم پر مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button