
خلیج اردو
نیویارک: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ 9اپریل 2022کو ایک چینل نے ایسا ماحول بنایاجیسے ملک میں مارشل لاء لگنے والا ہے، میں نے حالات کا ادراک کرتے ہوئے عدالت کھولی۔
یاد رہے کہ یہ وہ رات ہے جب عمران خان کو بطور وزیراعظم عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹایا گیا تھا۔ اس رات اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت کھولی جس پر بعد میں کافی تنقید ہوتی رہی۔
امریکہ میں نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے،کہا کہ مارشل لاء کا راستہ عدلیہ کو روکنا چاہیئےے تھا۔ کاش عدالتیں 5جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیا ء نے ایک منتخب وزیراعطم کو ہٹایا، کاش عدالتیں 12اکتوبر کو بھی کھلی ہوتیں ،،جب پرویز مشرف نے ایک وزیراعظم کو اٹھا کر باہر پھینکا۔
جسٹس اطہر نے عدلیہ کی جانب سے اپنے کردار سے تجاوز کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میموگیٹ کا معاملہ ایسا نہیں تھا جسے سپریم کورٹ نہ اُٹھاتی تو بہتر تھا۔ منتخب وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانا سپریم کورٹ کا کام نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانا غلط تھا کیونکہ صدر زرداری کو آئینی استثنی حاصل تھا۔
اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک جج جانتا ہے اُسے اپنے فیصلوں پر کیسے عمل کرانا ہے۔ ہمیں فیصلوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جاتا ہے۔ میرے خلاف بدترین پروپیگنڈا کیا گیا اور یہاں تک کہ میرے بچوں کی تصویریں اور پرسنل ڈیٹا لیک کیا گیا۔ن چیلنجز جج کے لیے ٹیسٹ ہیں اور جج کو تنقید سے نہیں ڈرنا چاہیے
چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو،عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کا






