
خلیج اردو
کراچی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ہنستا کھیلتا ننھا ابراہیم والدین کی آنکھوں کے سامنے کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد شہر بھر میں غم و غصہ پھیل گیا۔ سی سی ٹی وی ویڈیو کے مطابق والدہ کے ساتھ سٹور میں داخل ہوتے ہی دو سیڑھیاں اتر کر چند قدم کے فاصلے پر کھلا مین ہول موجود تھا۔ بچہ چلتے ہوئے اچانک سیدھا گٹر میں جا گرا۔ ننھے ابراہیم کے پیچھے اس کی ماں دوڑتی ہوئی آئی، چیخ و پکار پر لوگ اکٹھے ہوگئے جبکہ قریب کھڑے ایک شخص نے بھی مدد کے لیے دیگر افراد کو بلایا۔
کے ایم سی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بچے کے گرنے کو بی آر ٹی کی تعمیرات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھدائی کے سبب نالے کے نکاسی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹس کے مطابق عارضی طور پر دو فٹ کور لگا کر گٹروں کو بند رکھنے کی کوشش کی گئی، مگر ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے سے خوفناک سانحہ پیش آیا۔ پارکنگ میں کھلے مین ہول پر متعلقہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور کو سیل کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ بلدیہ عظمی کراچی نے افسوسناک واقعے پر لواحقین سے معذرت کی ہے اور عملے کے ملوث ہونے پر کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے سے ایک ماہ پہلے میئر کراچی کو نیپا کے مقام پر کھلے مین ہولز کی شکایات موصول ہوچکی تھیں۔ 3 نومبر کو تصاویر سمیت جمع کرائی گئی درخواست میں واضح تحریر تھا کہ کھلے سیوریج مین ہولز موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کے لیے مہلک خطرہ ہیں اور گلشن اقبال و نیپا کے کئی مقامات پر مین ہولز کھلے پڑے ہیں۔ اہلِ محلہ نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے حادثہ ہونے سے پہلے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی، مگر شکایات کو سنجیدگی سے نہ لینے کے باعث یہ المناک سانحہ رونما ہوا۔






