خلیج اردو
25 ستمبر2020
لاہور:پاکستان میں ایک ویب ٹی وی چینل کی ایک ویڈیو اس وقت تنقید کی زد میں ہے۔ ویڈیو میں پختون قوم کیلئے وزیری لہجے میں استعمال ہونے والے لفظ پشتین کو انتہا پسند کہا گیا ہے۔
بظاہر یہ ویڈیو نسل پرستی کے خلاف بنائی گئی ہے جس کا پیغام ہے کہ نسل پرستی کو نہ کہہ دیجئے سبھی پختون، پنجابی، سندھی، بلوچی ( بلوچ ) اور مہاجر برابر ہیں تاہم ویڈیو کے کانٹینٹ میں اداکار اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ ہر پختون پشتین نہیں ہوتا جس کو لے کر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
https://twitter.com/NashpatiPrime/status/1308778688402595841
ویڈیو بنانے والے ویب چینل ناشپاتی پر الزام لگایا جارہا ہے کہ انہیں پاکستان میں بسنے والی اقوام کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں۔ جیسے پشتون، پختون ، پشتین ایک ہی قوم کیلئے مختلف لہجوں میں استعمال ہونے والے الفاظ کو الگ الگ سمجھنا اور بلوچ کو بلوچی کہنا کچھ سوشل میڈیا صارفین کو ناگوار گزار ہے۔
اس ویڈیو پر ناشپاتی کی جانب سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں آئی تاہم سوشل میڈیا پر مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں جن میں اکثریت اس ویڈیو کی مذمت کرنے والوں کی ہے۔
قومی اسمبلی میں آزاد رکن اسمبلی اور مزحمتی تحریک پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے ٹویٹ میں اسے نسل پرستی کہہ کر کہا ہے کہ پشتونوں کو ایسے رویوں پر روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنےلوگوں کیلئے حق مانگنا کونسی انتہا پسندی ہے۔
Such blatantly racist vitriol against Pashtuns is not new. We experience it first hand every day. Demanding rights for our people, demanding justice and demanding an end to atrocities committed against our people does not make us extremists. Strongly #Condemnable and #Sharamnak https://t.co/ebIlX9W13B
— Mohsin Dawar (@mjdawar) September 24, 2020
نوبل انعام یافتہ ملامہ یوسفزائی کے والد ضیاءالدین یوسفزائی نے اسے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن سے محبت کرنے والے پشتونوں کو اس طرح نسل پرستی کا نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔
Disgusting. This sophisticated profiling of peace loving Pashtuns as extremists is highly condemnable. @reportpemra must take notice of it. https://t.co/9lNe51QcZt
— Ziauddin Yousafzai (@ZiauddinY) September 24, 2020
سماجی ورکر گلالئی اسمائیل نے کہا ہے کہ ہر کوئی پشتین نہیں ہو سکتا۔
ہر کوئی پشتین نہیں ہوتا کیونکہ ظلم کے خلاف پر امن مزاحمت کی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی، جابر اور طاقت ور کی آنکھ میں آنکھ ملا کر سچ اور حق بولنے کی ہمت ہر کسی میں نہیں ہوتی، اور اپنی آواز سے جبر کا ہاتھ روکنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا- #IAmPashteen
— Gulalai Ismail ګلالۍاسماعیل (@Gulalai_Ismail) September 24, 2020
عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان نے لکھا ہے کہ مجھے یہ سن کر اپنے کانوں پر یقین نہیں ہورہا۔ یہ ایسے کیسےکر سکتے ہیں یہ بہودہ ہے۔
How dare they run this?? I can’t believe my ears? I am livid right now.
WTH are they saying? https://t.co/CZg8OlJzSr— Reham Khan (@RehamKhan1) September 24, 2020
بی بی سی اردو سروس نے اس ویڈیو کے بعد پشتو کے معروف شاعر اور ادیب اور پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبۂ پشتو کے سربراہ عباسین یوسفزئی سے ویڈیو کے بعد پوچھا کہ پختون، پشتون اور پشتین میں دراصل فرق کیا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ اس میں فرق صرف مختلف لہجوں اور علاقوں کا ہے۔
یوسفزائی کے مطابق پشتو زبان کے دو لہجے ہیں۔ ایک یوسفزئی لہجہ اور دوسرا قندھاری لہجہ۔ یوسفزئی لہجہ بولنے والے جن میں اکثریت پاکستان میں پشاور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہتی ہے پختون بولتے ہے، جبکہ قندھاری لہجہ بولنے والے جو کہ افغانستان اور پاکستان کے جنوب میں رہتے ہیں لفظ پشتون بولتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا ’پشتین بھی لہجے کی بات ہے، ورنہ وہ بھی بختون ہی ہیں۔ وزیرستان اور بنوں کے علاقوں میں ’ے‘ پہ زور دیا جاتا ہے۔ جیسے پشتو کا لفظ مور یعنی ماں وہاں جا کر میر بن جاتا ہے۔ لیکن لکھنے میں سب ایک ہی طرح لکھتے ہیں، املا بالکل ایک جیسی ہے۔
ناشپاتی ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جن کو شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان فروری 2019 میں سرحدی جھڑپوں اور پاکستان ایئرفورس کی جانب سے بھارت کے جہاز گرانے اور پائلٹ کو زندہ گرفتار کرنے کے بعد بھارتی فوج اور سرکارکے خلاف کچھ ویڈیوز بنائی۔
یہ پلیٹ فارم ایک ہی طرح کا اسکرپٹ باربار فلمانے کیلئے جانا جاتا ہے تاہم اس پر پیش ہونے والا شو ٹو بی آنسٹ (TBH) جس کا میزبان تابش ہے ، کافی سراہا جاتا ہے تاہم اس شو میں بھی اکثر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو لے کر مزاق اڑایا جاتا ہے۔
مزکورہ ویڈیو جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے، لاکھوں افراد نے دیکھی ہے اور اس پر ہونے والے تبصرے بھی ہزاروں میں ہیں۔ ویڈیو کے حق میں بھی کچھ صارفین ٹویٹ کررہے ہیں تاہم ان میں اکثریت غیر معروف لوگوں کی ہے۔






