پاکستانی خبریں

پوری قوم متحد ہے، دہشت گردی کو شکست دینے کا عزم – قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

خلیج اردو
اسلام آباد:قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف متحد رہنے اور اسے ہر صورت شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 50 منٹ کا خطاب کیا جبکہ ڈی جی ایم او نے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” اور دیگر ملک دشمن عناصر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ اجلاس سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بائیکاٹ کیا۔

چھ گھنٹے طویل اجلاس میں کمیٹی نے حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست کی پوری طاقت استعمال کرنے اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری کو سراہا گیا اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

کمیٹی نے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا۔ عوام نے افواج پاکستان، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس اداروں کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، ملک کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کا حل پارلیمنٹ کے ذریعے نکالا جائے گا اور حکومتی حکمت عملی پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

کمیٹی نے اعلان کیا کہ کوئی بھی گروہ یا فرد جو دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت کرے گا، اسے ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس سے آرمی چیف سید عاصم منیر نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا  ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا، کوئی تحریک اور کوئی شخصیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار استحکام کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔

آرمی چیف نے زور دیا کہ ہمیں بہتر گورننس اور مملکت پاکستان کو "ہارڈ اسٹیٹ” بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم کب تک ایک "سافٹ اسٹیٹ” کے طرز پر بے پناہ جانوں کی قربانی دیتے رہیں گے اور گورننس کے خلا کو افواجِ پاکستان اور شہداء کے خون سے بھرتے رہیں گے؟

جنرل سید عاصم منیر نے علماء سے اپیل کی کہ وہ خوارج کی جانب سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کو بے نقاب کریں۔

آرمی چیف نے کہا کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں، لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کے لیے سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کر سکتے ہیں، آج کا دن ان کے لیے پیغام ہے کہ ہم متحد ہو کر نہ صرف ان کو بلکہ ان کے تمام سہولت کاروں کو بھی ناکام کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ ہے، جو کچھ بھی ہو جائے، ان شاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button