
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر ردِعمل دیتے ہوئے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوم کئی برسوں تک فیض حمید اور جنرل باجوہ کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کو 15 ماہ طویل عمل کے بعد سزا سنائی گئی اور انہیں آرمی کے کورٹ آف اپیل میں جانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کا تمام عمل اور ادارے فیض حمید کو میسر ہیں، اور فوج کے جوڈیشل عمل کے بعد وہ ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا نام پاناما پیپرز میں شامل نہیں تھا لیکن کیس سیدھا سپریم کورٹ میں شروع کیا گیا۔ ان کے مطابق انور ظہیر جمالی کے بعد ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کو انصاف کی مسند پر بٹھایا، اور انگریزی ناولوں کے حوالے دے کر نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے بعد بھی سپریم کورٹ، فیض حمید اور باجوہ کی تسلی نہیں ہوئی، پھر جے آئی ٹی بنوائی گئی، نیب کے کیس بنوائے گئے، اعجاز الاحسن کو کیس کا چوکیدار بنایا گیا اور نواز شریف کو 10 سال قید سنائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید اور باجوہ کا بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کا پراجیکٹ یہاں بھی ختم نہیں ہوا بلکہ نواز شریف کی بیٹی، بھائی اور پورے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔ وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ 9 مئی کا واقعہ فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا مشترکہ منصوبہ تھا اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔






