پاکستانی خبریں

پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں شروع کیا گیا آپریشن غضب لِلحق میں عیدالفطر کے پیش نظر عارضی وقفہ، دہشتگردوں کو بھاری نقصان، 707 ہلاک، 938 زخمی، پاکستان نے قومی سلامتی پر سخت موقف اپنایا

خلیج اردو
وفاقی وزیر اطلاعات اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر کے احترام میں آپریشن “غضب لِلحق” میں عارضی وقفہ کیا جا رہا ہے، جو 18/19 مارچ کی رات سے 23/24 مارچ کی رات تک نافذ العمل ہوگا۔

یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر پاکستان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت لیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ افغانستان میں جاری دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں یہ وقفہ محدود ہے، اور کسی بھی سرحد پار حملے، ڈرون کارروائی یا دہشتگردی کی صورت میں آپریشن فوری طور پر بحال کیا جائے گا۔ پاکستان قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہوں گی۔

آپریشن “غضب لِلحق” کے دوران فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے 707 دہشتگرد ہلاک جبکہ 938 سے زائد زخمی ہوئے۔ 255 چوکیوں کو تباہ کیا گیا اور 44 پوسٹس پر کنٹرول حاصل کیا گیا، جبکہ 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کیے گئے۔

فضائی کارروائیوں میں افغانستان میں 81 دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور 16 مارچ کی رات پاکستان کی مسلح افواج نے کابل اور ننگرہار میں اہم تنصیبات، بشمول ڈرون اسٹوریج، اسلحہ ڈپو اور تکنیکی سہولیات کو تباہ کیا، جو دہشتگرد عناصر پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

باجوڑ، کرم، طورخم خیبر، شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی افغان طالبان کی چوکیوں اور دہشتگرد کیمپس کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ کارروائیوں میں کسی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اور افغان عبوری حکومت یا بعض میڈیا کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، مگر قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button