خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، جس میں مختلف مالی امور پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا جبکہ موسم سرما کے ریلیف پیکیج کو پورے مالی سال تک بڑھانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو ریٹیل سمیت مختلف شعبوں سے 250 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روپے قرض لینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
حکومت نے مذاکرات میں رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیورجز اور تمباکو سیکٹر کو ریلیف دینے کی تجویز پیش کی، جبکہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب، چیئرمین ایف بی آر کی قیادت میں ٹیکس حکام نے ادارے کی تنظیم نو سے متعلق آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ دی۔ آئی ایم ایف مشن ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے اپنی تجاویز پالیسی مذاکرات میں پیش کرے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پیر سے پالیسی مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہوگا، جس میں آئندہ بجٹ اور دیگر مالی امور پر مزید تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا نے بھی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کی اور صوبے کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی۔






