
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات کے پیش نظر پاکستان میں تیل و گیس کے ممکنہ بحران کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس کی تصدیق محمد اورنگزیب نے کی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ “ہم سب نے مل کر ملک کو اس بحران سے نکالنا ہے” اور حکومت ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپریل تک سپلائی کی صورتحال بہتر رہے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 69 ارب روپے کا بوجھ برداشت کر چکی ہے تاکہ عوام پر قیمتوں کا دباؤ کم رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی کوشش ہے کہ موجودہ حالات میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال کچھ ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے اور پاکستان کے وسائل لامحدود نہیں ہیں، اس لیے حکومت اب “ٹارگٹڈ ریلیف” کی جانب جانے پر غور کر رہی ہے تاکہ مستحق طبقات کو زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس صورتحال کے تجارت پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور ایسی تجاویز زیر غور ہیں جو ملک کو بہتر معاشی سمت میں لے جا سکیں۔
آخر میں وزیر خزانہ نے دعا کا اظہار کیا کہ جنگی حالات جلد ختم ہوں تاکہ خطے میں استحکام آئے اور معیشت پر دباؤ کم ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی کشیدگی طویل ہوئی تو پاکستان کو توانائی اور تجارتی شعبوں میں مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







