
شارجہ میں پاکستانی شہری قتل کے الزام سے بری، 2 لاکھ درہم دیت ادا کرنے کا حکم
خلیج اردو
شارجہ: شارجہ اپیل کورٹ نے ایک پاکستانی شہری کو قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جرم کے وقت وہ ذہنی طور پر معذور تھا۔ عدالت نے ابتدائی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔
33 سالہ ملزم کو شدید نوعیت کی ذہنی بیماری سکِزوفرینیا لاحق تھی، جس کے باعث وہ اپنے افعال پر قابو اور حالات کا درست ادراک نہیں رکھتا تھا۔ اس نے دسمبر 2021 میں اپنے 31 سالہ پاکستانی سپروائزر پر کام کے دوران حملہ کیا تھا جس سے وہ جاں بحق ہوگیا۔
عدالت نے مجرم کو فوجداری ذمہ داری سے بری قرار دیتے ہوئے مقتول کے ورثا کو دو لاکھ درہم خون بہا (دیت) ادا کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ہدایت دی گئی کہ رقم ادا کرنے کے بعد اسے متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کیا جائے۔ عدالت نے ملزم کے وکیلِ صفائی کو عوامی خزانے سے پانچ ہزار درہم بطور فیس ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
تحقیقات کے مطابق، ملزم نے اپنے سپروائزر پر اس وقت آہنی راڈ سے حملہ کیا جب وہ سو رہا تھا، جس سے اس کے سر پر مہلک زخم آئے۔ دورانِ سماعت پیش کی گئی نفسیاتی رپورٹس میں تصدیق کی گئی کہ واقعے کے وقت ملزم فعال سکِزوفرینیا کا شکار تھا، جس سے اس کی حقیقت کا شعور بری طرح متاثر ہوا۔
میڈیکل معائنے میں انکشاف ہوا کہ ملزم کو وہم تھا کہ اسے ایک پرندے کے ذریعے "الٰہی پیغام” موصول ہوا ہے جس میں اسے قربانی دینے کا کہا گیا۔ اسی فریب میں اس نے اپنے سپروائزر کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسے نیک شخص سمجھتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ برج خلیفہ کا اصل ڈیزائنر وہ خود ہے، جنات اس کا موبائل ہلا رہے ہیں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں۔
وکیلِ صفائی کا کردار
ملزم کی وکیلِ صفائی، سعاد محمد (العوّامی المنصوری لاء فرم اینڈ لیگل کنسلٹنس) نے مقدمے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو سکِزوفرینیا لاحق ہے، جو ایک دیرینہ ذہنی بیماری ہے جس میں مریض حقیقت سے کٹ جاتا ہے، اور اسی باعث وہ اپنے افعال پر قابو نہیں رکھ سکا۔
وکیل نے عدالتی حکم پر المعال اسپتال برائے ذہنی صحت سے تفصیلی نفسیاتی رپورٹ منگوائی، جس میں طبی ماہرین نے قرار دیا کہ ملزم "ادراک اور آزاد ارادے سے مکمل طور پر محروم” تھا۔ یہ نتیجہ متحدہ عرب امارات کے پینل کوڈ کے آرٹیکل 62 کے مطابق قانونی جنون کے معیار پر پورا اترتا ہے۔
اپیل اور حتمی فیصلہ
اپریل 2024 میں ابتدائی عدالت نے ملزم کو شرعی قانون (قصاص) کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ بعدازاں دفاع نے ذہنی معذوری کی بنیاد پر اپیل دائر کی جبکہ استغاثہ نے اصل فیصلہ برقرار رکھنے کی استدعا کی۔
شارجہ کورٹ آف اپیل نے دونوں اپیلیں منظور کرتے ہوئے ابتدائی فیصلہ منسوخ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ذہنی حالت کے باعث ملزم کو فوجداری طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، تاہم مقتول کے ورثا کو دیت ادا کی جائے گی۔ رقم کی ادائیگی کے بعد ملزم کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ فوجداری مقدمات میں نفسیاتی معائنے کس قدر اہم ہیں اور ذہنی امراض سے متاثر ملزمان کے حقوق کے تحفظ میں وکلاء کا کردار کتنا فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔






