
خلیج اردو
اسلام آباد
پاکستان میں آئین میں اہم ترامیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے چند گھنٹے بعد سپریم کورٹ کے دو ججز نے استعفیٰ دے دیا۔ ان ترامیم کے بعد عدلیہ کے اختیارات کم جبکہ فوج کے سربراہ کے اختیارات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے مستعفی ہونے کا اعلان اس وقت کیا جب پارلیمنٹ نے جمعرات کو آئینی ترمیمی بل منظور کیا۔ منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ نئی ترمیم عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کے مترادف ہے، جیسا کہ روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے دو تہائی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے بل کی منظوری کرائی، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی اجازت دے دی گئی جس کے ججز وزیر اعظم تعینات کریں گے اور یہ سپریم کورٹ کے متوازی کام کرے گی۔ قانون سازوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تاحیات قانونی استثنیٰ بھی دے دیا اور ان کے اختیارات مزید بڑھا دیے۔ انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے نئے عہدے پر بھی تعینات کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ تمام عسکری شاخوں کے سربراہ ہوں گے۔ ان کی مدت 2030 تک مقرر کی گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت، ان ترامیم کے خلاف ملک گیر احتجاج پر غور کر رہی ہیں، جیسا کہ ڈان نے رپورٹ کیا ہے۔ آرمی چیف امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔






