عالمی خبریں

بی بی سی سکینڈل: ٹم ڈیوی اور ڈیبورہ ٹرنَس مستعفی، صدر ٹرمپ کی معافی اور تردید کا مطالبہ

 

خلیج اردو

لندن: بی بی سی میں جاری تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور نیوز چیف ڈیبورہ ٹرنَس نے اتوار کے روز استعفیٰ دے دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ سکینڈل ادارے کی ساکھ متاثر کر رہا ہے اور بطور سی ای او آف بی بی سی نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز ’’ذمہ داری میری ہے‘‘۔

ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وکیل کی جانب سے بی بی سی کو بھیجے گئے خط میں صدر سے معافی، دستاویزی رپورٹ کی ’’مکمل اور منصفانہ‘‘ تردید، اور دیگر ’’جھوٹے، گمراہ کن اور ہتک آمیز‘‘ بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی مشکلات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے لیے برطانیہ یا امریکہ میں بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ بی بی سی یہ مؤقف پیش کر سکتی ہے کہ صدر کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا، کیوں کہ وہ بالآخر 2024 میں صدر منتخب ہو گئے۔

برطانیہ میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی مدت ایک سال سے زائد پہلے ہی گزر چکی ہے، جبکہ متعلقہ دستاویزی فلم امریکہ میں نشر ہی نہیں ہوئی، اس لیے یہ ثابت کرنا بھی مشکل ہوگا کہ امریکی عوام کی نظر میں صدر کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

اگرچہ بہت سے قانونی ماہرین صدر ٹرمپ کے میڈیا مخالف دعووں کو کمزور سمجھتے ہیں، تاہم وہ بعض امریکی میڈیا اداروں سے بھاری رقوم کے تصفیے حاصل کر چکے ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو بنیاد بنا کر ممکنہ طور پر کسی خیراتی ادارے کے لیے ادائیگی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

گزشتہ مثالیں
جولائی میں سی بی ایس کی مالک کمپنی پیراماؤنٹ نے سابق نائب صدر کملا ہیرس کے انٹرویو سے متعلق ٹرمپ کے مقدمے کا 16 ملین ڈالر میں تصفیہ کیا۔ ٹرمپ کا الزام تھا کہ ’’60 منٹس‘‘ انٹرویو کو اس انداز میں ایڈٹ کیا گیا جس سے ڈیموکریٹک امیدوار ہیرس زیادہ مؤثر دکھائی دیں۔

اسی دوران ٹرمپ کے مقرر کردہ ایف سی سی سربراہ نے ایک تحقیقات بھی شروع کی تھی، جس سے پیراماؤنٹ کی اسکائی ڈانس میڈیا کے ساتھ مجوزہ انضمام کی منظوری پیچیدہ ہو سکتی تھی۔

گزشتہ سال اے بی سی نیوز نے 15 ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، جب اینکر جارج اسٹیفاناپولس نے یہ غلط بیان دیا کہ صدر منتخب ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کی ’’ریپ‘‘ کیس میں سول عدالت نے مجرم قرار دیا ہے، جبکہ جیوری نے انہیں ’’جنسی زیادتی‘‘ کا مرتکب قرار دیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button