
خلیج اردو
اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے رواں مالی سال کے دوران شرحِ نمو میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ اپریل 2025 میں جاری دو سالہ رپورٹ میں یہ شرح 3.1 فیصد بتائی گئی تھی، یوں رواں مالی سال کے لیے شرحِ نمو کی پیش گوئی میں 0.5 فیصد کمی ظاہر کی گئی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق تباہ کن سیلابوں نے ملکی معیشت کے اندازوں کو بری طرح متاثر کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کمی متوقع ہے۔ چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں بھی متاثر ہوں گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں شرحِ نمو 3.4 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ عالمی بینک نے کہا کہ پاکستان اگر اپنے پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف میں نصف کمی لانے میں کامیاب ہو جائے تو برآمدات اور ترقی کے شعبوں میں خاطر خواہ بہتری ممکن ہے۔
مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں افراطِ زر سنگل ڈیجٹ پر آ گیا، کیونکہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق سیلابوں کے باعث غذائی سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے سے 2027 تک مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔






