
خلیج اردو
دبئی: بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان اتوار کو پرتھ میں شروع ہونے والی ون ڈے سیریز سے قبل ایک بار پھر سب کی نظریں بھارتی کرکٹ کے دو بڑے ستاروں ویرات کوہلی اور روہت شرما پر مرکوز ہیں۔ دونوں کھلاڑی اب تک تقریباً 600 ون ڈے میچ کھیل چکے ہیں اور اس سیریز کو ان کے بین الاقوامی کیریئر کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سیریز کے گرد گھومتی بحث صرف بھارت اور آسٹریلیا کے مقابلے تک محدود نہیں بلکہ کوہلی اور روہت کے مستقبل سے بھی جڑی ہے۔ اگلا پچاس اوورز کا ورلڈ کپ دو سال بعد جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے میں ہوگا، اور اس وقت تک روہت 40 جبکہ کوہلی 38 برس کے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کی کارکردگی پر غیر معمولی نظر رکھی جا رہی ہے۔
تین میچوں پر مشتمل یہ سیریز کوہلی اور روہت کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں کچھ اشارے دے سکتی ہے۔ سابق آسٹریلوی اوپنر میتھیو ہیڈن کا کہنا ہے کہ دباؤ ضرور زیادہ ہے، لیکن یہی دباؤ ان کے جوش کو بڑھا سکتا ہے۔
ہیڈن نے گلف نیوز سے گفتگو میں کہا: "جب آپ ویرات اور روہت جیسے کھلاڑی ہوں تو ظاہر ہے کہ دباؤ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بھارت اور آسٹریلیا جیسی بڑی سیریز میں۔ مگر یہ دونوں تجربہ کار پروفیشنل ہیں، جو برسوں سے دباؤ کو بہترین انداز میں سنبھالتے آئے ہیں۔ دراصل اس طرح کی توجہ انہیں مزید بہتر کھیلنے کی تحریک دیتی ہے۔”





