
خلیج اردو
ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت اور پاکستان پہلی بار آمنے سامنے ہوں گے، لیکن میدان کے اندر اور باہر کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیمیں دو بار ایک دوسرے سے ٹکرا چکی ہیں، جو پاہلگام دہشتگرد حملے کے بعد ان کا پہلا آمنا سامنا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور اسی پس منظر میں کھلاڑیوں کے درمیان تلخی مزید بڑھ گئی۔
پہلے میچ کے بعد بھارتی ٹیم نے فوج اور حملے کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر روایتی مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جواباً پاکستان کے کپتان پریزنٹیشن تقریب میں شریک نہ ہوئے اور ٹیم نے میڈیا سے بھی محدود بات چیت کی۔
دوسری ملاقات میں بھی کوئی بہتری نہ آئی۔ ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں نے ہاتھ ملانے سے گریز کیا اور میچ کے اختتام پر بھی کھلاڑیوں نے روایتی مصافحہ نہیں کیا، جسے عام طور پر اسپورٹس مین اسپرٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اب اتوار کو دبئی میں ہونے والے فائنل سے پہلے یہ سوال سب کے ذہن میں ہے کہ آیا دونوں ٹیموں کے کھلاڑی روایتی مصافحہ کریں گے یا نہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پہلے ہی دونوں ٹیموں کے کئی کھلاڑیوں پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کر چکی ہے، جن میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادو، پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف اور بلے باز صاحبزادہ فرحان شامل ہیں۔






