
خلیج اردو
یمن کے ایران نواز حوثیوں نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر المخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یمنی حکومت کے چار فوجی ذرائع کے مطابق المخا پر قبضے سے حوثیوں کو باب المندب آبنائے پر مزید اثر و رسوخ حاصل ہوگیا ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔
یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثی بحیرہ احمر کے اہم حنیش جزائر پر بھی حملے کررہے ہیں، جبکہ حکومتی افواج اور ان کے اتحادی جنوب کی جانب ذباب منتقل ہورہے ہیں، جو باب المندب آبنائے کے قریب اور جزیرہ پریم کے سامنے واقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذباب اور جزیرہ پریم کا کنٹرول باب المندب پر گرفت حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے، جس سے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں جنگ کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی نے یمن میں کئی برس جاری رہنے والی لڑائی بڑی حد تک روک دی تھی، تاہم مستقل سیاسی حل نہ ہونے کے باعث تازہ جھڑپوں سے دوبارہ مکمل جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کا جنوبی راستہ ہے جو یمن کو افریقہ کے ساحلی ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتا ہے۔ یہ خلیجی ممالک سے خام تیل اور ایندھن کی یورپ تک ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، جبکہ ایشیا جانے والی اشیا کی ترسیل بھی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔
آبنائے باب المندب کی بندش سے سعودی عرب سمیت خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی اہم بحری تجارتی گزرگاہیں متاثر ہوسکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کردیا ہے۔ یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے باہمی حملوں میں بھی شدت آگئی ہے۔






