متحدہ عرب امارات

دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی نے دھوکہ دہی کے سابقہ مقدمات چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے اور مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرانے پر ایک سرمایہ کار پر 2 لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد، یعنی 7 لاکھ 71 ہزار 330 درہم جرمانہ عائد کردیا۔

خلیج اردو
دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی نے دھوکہ دہی کے سابقہ مقدمات چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے اور مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرانے پر ایک سرمایہ کار پر 2 لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد، یعنی 7 لاکھ 71 ہزار 330 درہم جرمانہ عائد کردیا۔

اتھارٹی کے مطابق گیری جوزف پیٹرز نے ملازمت اور مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں، جبکہ مطلوبہ دستاویزات بھی جمع نہیں کرائیں۔ پیٹرز نومبر 2020 سے جون 2022 تک دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی سے منظور شدہ ایک فرم میں ملازم رہے۔ ان کے ملازمت کے معاہدے میں انہیں مینیجنگ پارٹنر اور پبلک ریلیشنز آفیسر کے ساتھ فرم کا چیف آپریٹنگ آفیسر بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

اتھارٹی کے مطابق لازمی انٹرویو کے دوران پیٹرز نے ماضی میں دھوکہ دہی یا بددیانتی سے متعلق مجرمانہ جرائم میں سزا یافتہ ہونے کی بات سے غلط طور پر انکار کیا۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ پیٹرز پر ایک دوسرے دائرہ اختیار میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق تین الگ مقدمات میں الزامات عائد ہوئے تھے اور انہوں نے ان میں جرم قبول کیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق ان کا طرزِ عمل ریگولیٹری لا 2004 کے آرٹیکل 66 کی خلاف ورزی ہے۔

جرمانے کے علاوہ اتھارٹی نے پیٹرز کو اپنے دائرہ اختیار میں منظور شدہ کسی فرم میں ملازمت کرنے سے بھی روک دیا ہے، جبکہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے متعلق کاروباری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ پیٹرز نہ تو اس کے منظور شدہ فرد تھے اور نہ ہی کبھی انہیں یہ حیثیت حاصل رہی۔

ریگولیٹر کے مطابق پیٹرز نے اپنی تعلیمی قابلیت کے دعووں کی حمایت میں اسناد یا تعلیمی ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا۔ تحریری ہدایت، متعدد یاد دہانیوں اور دستاویزات جمع کرانے کے مزید مواقع دیے جانے کے باوجود وہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے اور عدم تعمیل کی کوئی معقول وجہ بھی پیش نہیں کی۔

اتھارٹی نے قرار دیا کہ پیٹرز کا یہ طرزِ عمل ریگولیٹری لا 2004 کے آرٹیکل 69 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں مالیاتی خدمات کی نگرانی کرنے والے آزاد ادارے کے مطابق پیٹرز اس مرکز کے اندر یا وہاں سے مالیاتی خدمات کی فراہمی سے متعلق کسی بھی ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button