متحدہ عرب امارات

سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا

خلیج اردو
سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً روزانہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مہلک حملوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، مصر، بھارت، اردن، پاکستان اور فلسطین کے شہری شامل تھے۔ گزشتہ ہفتے سعودی فضائی دفاع نے آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ میں تیل پراسیسنگ کی تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو روک لیا، تاہم ملبہ گرنے سے ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری ہلاک جبکہ ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری زخمی ہو گئے۔

اسی روز سعودی شہر دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک بھارتی شہری اور ایک سعودی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سعودی، نیپالی، بھارتی، یمنی اور بنگلہ دیشی شہری شامل تھے۔ حوثیوں کے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد گرنے والے ملبے سے رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ایک واقعے میں تین رہائشی عمارتیں اور سات گاڑیاں متاثر ہوئیں جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

26 اکتوبر کو حوثیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی خام تیل کی پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی عرب نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی عرب نے ستمبر میں احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی 1200 کلومیٹر طویل مشرقی مغربی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی تھی۔ اس سے قبل ریاض اور بغداد نے ایک ڈرون حملے کا منبع عراق کو قرار دیا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی اور فوجی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں پر قبضے کے بعد حوثی باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔ یہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستہ ہے۔ اس پیش رفت کے بعد یمن کی حکومت نے حوثیوں کے قبضے سے علاقے واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف اتحاد کی قیادت کرتا آ رہا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تھا۔ موجودہ لڑائی نے 2022 سے بڑی حد تک برقرار رہنے والی جنگ بندی کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ کشیدگی فروری میں شروع ہونے والی امریکہ ایران جنگ کے بعد بڑھی ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے 26 اکتوبر کو اعلان کیا کہ اس نے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی پانچ سرنگیں، چار میزائل لانچر اور میزائلوں کا ایک ذخیرہ تباہ کر دیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق کارروائی میں یمن کے محاذوں پر حوثیوں کی رسد کی لائنوں، جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

سعودی عرب میں فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ ریاض اور دمام کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ بعض ایئرلائنز نے اپنے آپریشنز متبادل ہوائی اڈوں پر منتقل کیے۔ اتحاد ایئرویز اور فلائی دبئی نے سعودی عرب کے بعض روٹس پر پروازوں کی منسوخی میں توسیع کر دی ہے۔ ایمریٹس، فلائی ناس اور سعودی ایئرلائنز بھی متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہیں۔ ریاض، جدہ، مدینہ اور دمام کے لیے پروازیں منسوخ کی گئیں۔ 25 اکتوبر کو شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے بین الاقوامی پروازوں کے لیے ٹرمینل 2 جبکہ اندرون ملک پروازوں کے لیے ٹرمینل 1 مختص کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں اپنے بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔ ترجمان ٹومی پگٹ کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کا حکم دیا گیا۔ امریکی سرکاری ملازمین کو سعودی ہوائی اڈوں کے استعمال کے لیے اجازت لینے کی ہدایت بھی کی گئی، جبکہ امریکی شہریوں کو فضائی سفر کے خطرات کے باعث متبادل ذرائع نقل و حمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

دریں اثنا، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایران کے رہنماؤں سے تہران میں ملاقات طے پائی ہے۔ یہ ملاقات سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ قرار دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کی نمائندگی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کریں گے۔

اگست میں دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق علاقائی سلامتی سے متعلق مذاکرات میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، فلسطینی علاقوں اور لبنان کی صورت حال، اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات پر بھی بات ہو گی۔

ادھر امریکی حکام نے سی این این کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے 25 اکتوبر کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات مکمل ہونے تک ایران پر حملے نہیں کیے جائیں گے، اس لیے جنگ کی بحالی کی صورت میں کارروائی انتخابات کے بعد ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بیرونی مداخلت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کا واحد راستہ خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button