خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں عمرہ زائرین سعودی عرب جانے اور عمرہ ادا کرنے کے لیے جیسے دن گن رہے ہیں اور ان کی بے تابی دیدنی ہے۔
حکام کی جانب سے کرونا وائرس سے متعلق پابندیوں کو کم کرنے کے فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات میں نمازی سفر کرنے اور اپنی نماز ادا کرنے کے قابل ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے خلیج ٹائمز نے شہریوں سے بات کی ہے جن کا جذبہ کافی بلند ہے۔ 55 سالہ اماراتی ام فحہ کا کہنا ہے کہ میں وہاں جانے کی خواہش کر رہی تھی جیسا کہ میں ہر سال عمرہ کرنے کے لیے سفر کرتی تھی۔ انشاء اللہ میں رمضان کے آخری 10 دنوں میں وہاں ہوں گی۔
آنے والے دنوں اور رمضان کے آخری 10 دنوں کے لیے عمرہ کے خواہشمند افراد کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگا اور اس میں وبائی امراض کرونا سے پہلے کی سطح سے زیادہ اضافے کی توقع ہے کیونکہ بہت سے نمازی کرونا وائرس کی پابندیوں کے دو سال بعد عمرہ کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔
سعودی وزارت حج اور عمرہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مکمل ویکسین شدہ بچوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔ عمرہ اور توکلنا درخواستوں کے ذریعے اجازت نامے کے لیے کم از کم عمر کی شرط پانچ سال ہے۔
وزارت حج نے مطلع کیا ہے کہ اس نے گزشتہ سات مہینوں میں اس عظیم الشان مسجد میں داخلے کیلئے 29.4 ملین سے زیادہ اجازت نامے جاری کیے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران مسجد نبوی میں نمازیوں کو 3.7 ملین سے زیادہ اجازت نامے دیے گئے۔
ٹویٹر پر سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے بتایا ہے کہ دو سال قبل عمرہ کو وبائی امراض کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا اور اب یہ سب کے لیے کھلا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں عمرہ ایجنسیوں نے سعودی حکام کے کرونا وائرس قوانین اور پابندیوں کو کم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایک بیان میں سعودی عرب نے بتایا ہے کہ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور دیگر مساجد میں سماجی دوری کے اقدامات کے ساتھ ساتھ تمام کھلی اور بند جگہوں، سرگرمیوں اور تقریبات پر پابندی عائد رہے گی۔ ماسک مساجد اور دیگر اندرونی سہولیات کے اندر پہننا ضروری ہے۔
سعودی عرب میں آنے والے مسافروں کو اب پی سی آر ٹیسٹ یا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کے نتائج پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی جبکہ وزٹ ویزے پر مملکت آنے والے مسافروں کو اپنے قیام کے دوران کرونا وائرس کے علاج کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے میڈیکل انشورنس کروانا ضروری ہے۔
مملکے سعودیہ میں آنے والے مسافروں کے لیے ادارہ جاتی اور گھریلو قرنطینہ کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔
دبئی میں جب خلیج ٹائمز نے عمرہ ایجنٹ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اتوار کی صبح بڑی تعداد میں رہائشی اور شہری ان کے دفتر کے احاطے میں جمع ہوئے۔ بہت سے دوسرے لوگوں نے رمضان سے پہلے، اس کے دوران اور آخری چند دنوں میں عمرہ کی بکنگ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے فون کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کے اعلان کے بعد، حجاج کرام کے ٹرن آؤٹ میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ اب پانچ سال سے زیادہ عمر کے بچے عمرہ کے اجازت نامے حاصل کر سکتے ہیں اس لیے بہت سے خاندان بھی بکنگ کروا رہے ہیں۔
عمرہ آپریٹر کے دفتر میں بکنگ کروانے والے ایک حاجی جبران خان نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ حکام اب پانچ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو بھی عمرہ کی اجازت دے رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی بیوی اور آٹھ اور 10 سال کی دو بیٹیوں کے ساتھ عمرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
Source: Khaleej Times







