
خلیج اردو
یو اے ای سے ہر سال جولائی اور اگست میں یورپ کا رخ کرنے والے سیاحوں کو اس سال موسم نے حیران کردیا۔ کسی نے شدید گرمی کے باعث اپنے منصوبے منسوخ کیے تو کسی کو 10 ڈگری سینٹی گریڈ کی سردی سے بچنے کے لیے ہُڈی خریدنا پڑی۔
خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی کی رہائشی زینا جو ہر سال اپنے خاندان سے ملنے فرانس جاتی ہیں اس بار بھی اگست میں فرانس پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست دبئی میں عام طور پر سب سے زیادہ گرم مہینہ ہوتا ہے اسی لیے وہ اس دوران یورپ کا سفر پسند کرتی ہیں۔
زینا نے جنوبی فرانس اور پیرس کا سفر کیا تاہم اس بار شدید گرمی نے ان کی چھٹیوں کو متاثر کیا۔ جنوبی فرانس میں انہوں نے شہروں کے درمیان سفر کم کیا بعض منصوبے منسوخ کیے اور ساحل سمندر پر بھی کم وقت گزارا۔
ان کے مطابق شام کے وقت بھی گرمی محسوس ہوتی رہی جبکہ عام طور پر اس موسم میں خوشگوار ہوا چلتی ہے۔ تاہم زینا کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بھی اگست میں یورپ کا سفر کریں گی لیکن ہیٹ ویو کی تاریخیں پہلے چیک کرکے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں گی۔
دوسری جانب یو اے ای سے برطانیہ جانے والی لِز کو موسم کے بالکل برعکس تجربے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں توقع تھی کہ یورپ میں موسم گرم ہوگا لیکن اسکاٹ لینڈ اور شمالی انگلینڈ میں درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
لِز کے پاس سردی سے بچنے کے لیے صرف ایک کارڈیگن تھا جو وہ جہاز کے سفر کے لیے لائی تھیں۔ سردی کے باعث انہیں وہاں سے ایک ہُڈی خریدنا پڑی۔
لندن میں موسم نسبتاً گرم رہا جہاں درجہ حرارت 27 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہا۔ لِز کے مطابق گرمی محسوس ہوئی لیکن اس سے ان کے سفری منصوبے متاثر نہیں ہوئے۔
انہوں نے یورپ کے طویل دنوں کو اپنے سفر کا خاصا پسندیدہ حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر رات تقریباً 10 بجے سورج غروب ہوتا تھا جس سے انہیں گھومنے پھرنے کے لیے زیادہ وقت ملا۔
سیاحوں کے مطابق اگست اب بھی یورپ جانے کے لیے اچھا مہینہ ہے تاہم بدلتے موسم اور اچانک ہیٹ ویو یا سردی کے باعث مسافروں کو اس بار سفر سے پہلے موسم کی پیش گوئی ضرور چیک کرنا ہوگی۔







