
خلیج اردو
یو اے ای کے اماراتی ٹیلنٹ کمپٹیٹیو نیس کونسل (ETCC) نے نفیس پروگرام کے نئے فریم ورک کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق ستمبر 2026 سے نئے مستحق افراد پر ہوگا۔
نئے نظام کے تحت تنخواہ سپورٹ کی حد مقرر کی جائے گی، اہل افراد کے لیے کم از کم تنخواہ 6 ہزار درہم ہوگی، بچوں کے الاؤنس کی حد ختم کر دی جائے گی جبکہ نجی شعبے کے ملازمین کی پنشن شراکت داری میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔
تنخواہ سپورٹ میں تبدیلی
نئے مستحق افراد کے لیے ماہانہ زیادہ سے زیادہ سپورٹ:
- بیچلر ڈگری رکھنے والوں کے لیے 6 ہزار درہم
- ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے 5 ہزار درہم
- سیکنڈری اسکول گریجویٹس کے لیے 4 ہزار درہم
- سیکنڈری سے کم تعلیم رکھنے والوں کے لیے شادی شدہ یا زیر کفالت افراد کی صورت میں 4 ہزار درہم جبکہ غیر شادی شدہ افراد کے لیے 3 ہزار درہم تک ہوگی۔
نفیس سپورٹ کے لیے اہل ملازم کی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار درہم سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
نئے قوانین کے تحت تمام اہل کیٹیگریز کے لیے کم از کم تنخواہ 6 ہزار درہم مقرر کی گئی ہے۔
موجودہ نجی شعبے کے ملازمین جو نفیس تنخواہ سپورٹ حاصل کر رہے ہیں ان کے لیے نئی رقم مرحلہ وار نافذ ہوگی۔ سپورٹ ہر چھ ماہ بعد 500 درہم کم کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ نئی پالیسی کے مطابق مقررہ حد تک پہنچ جائے۔
بچوں کے الاؤنس میں بڑی تبدیلی
اماراتی نجی شعبے کے ملازمین کے لیے چائلڈ الاؤنس اب بچوں کی مقررہ تعداد تک محدود نہیں رہے گا۔ ہر اہل بچے کے لیے 600 درہم ماہانہ دیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد خاندانوں کو مزید سہولت فراہم کرنا اور معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔
نئی تنخواہ سپورٹ اسکیمیں
اماراتی ماؤں کے نجی شعبے میں کام کرنے والے بچوں کے لیے بھی نئی سپورٹ متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت شرائط پوری ہونے پر 3 ہزار درہم ماہانہ تک مدد دی جا سکتی ہے۔
اسی طرح اماراتی مردوں کی نجی شعبے میں کام کرنے والی بیویوں کو بھی 3 ہزار درہم ماہانہ تک سپورٹ مل سکتی ہے، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط پوری کریں، جن میں تنخواہ، تعلیمی قابلیت اور شادی کی مدت شامل ہیں۔
پنشن نظام میں تبدیلی
نفیس کے تحت اہل اماراتی ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت جاری رہے گی، تاہم ستمبر سے نجی شعبے کے ادارے اپنے اماراتی ملازمین کے لیے پنشن میں قانونی حصہ خود ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔
یو اے ای حکومت کے مطابق نفیس پروگرام کو 2040 تک توسیع دی گئی ہے۔ نئی اصلاحات کا مقصد اماراتی شہریوں کے لیے نجی شعبے میں روزگار کو مزید پائیدار بنانا اور اماراتائزیشن کو فروغ دینا ہے۔







