
خلیج اردو
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹولز نے طویل عرصے سے ویب براؤزنگ میں اپنی جگہ بنالی ہے، جیسے مائیکروسافٹ ایج میں کوپائلٹ یا پرپلکسی میں خودکار خلاصے۔ تاہم اوپن اے آئی نے اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایسا نیا تجربہ پیش کیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت خود براؤزر بن جائے۔ چیٹ جی پی ٹی ایٹلس نامی یہ نیا براؤزر کرومیم نظام پر مبنی ہے جو تحقیق، تحریر اور روزمرہ کے آن لائن کاموں کو ایک ہی صفحے پر انجام دینے کا وعدہ کرتا ہے۔
ایٹلس استعمال کے لحاظ سے گوگل کروم سے خاصا مشابہ ہے مگر زیادہ سادہ اور صاف ستھرا انٹرفیس رکھتا ہے۔ بائیں جانب چیٹ جی پی ٹی ہمیشہ موجود رہتا ہے جہاں صارف اپنی گفتگو جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ دائیں جانب ایک پینل کھلتا ہے جہاں کسی بھی متن کو منتخب کرکے اس سے خلاصہ، وضاحت یا نیا اندازِ تحریر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اکاؤنٹ سائن اِن کرنے اور بک مارکس درآمد کرنے کے بعد یہ براؤزر چند منٹوں میں استعمال کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ’’ڈیجیٹل معاون‘‘ کا احساس دلاتا ہے جو ہر وقت ساتھ موجود ہو۔ عام معلومات حاصل کرنے، مضامین کا خلاصہ بنانے یا کسی تحریر کا لہجہ بدلنے جیسے کاموں میں یہ واقعی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
تاہم درستگی کے معاملے میں تجربہ ہمیشہ اطمینان بخش نہیں رہا۔ بعض اوقات ایٹلس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات غلط یا مبالغہ آمیز نکلیں جن سے اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک صارف نے جب دو ہزار پچیس کی بہترین فلموں کی فہرست پوچھی تو براؤزر نے ایک ویڈیو گیم کو فلم قرار دے دیا۔ اسی طرح یوٹیوب کے ٹریلر کا خلاصہ طلب کرنے پر براؤزر نے ایسے مکالمے شامل کردیے جو ویڈیو میں موجود ہی نہیں تھے۔
ایٹلس میں موجود ’’ایجنٹ موڈ‘‘ خصوصیت سب سے جدید معلوم ہوتی ہے، جو آن لائن خریداری یا ای میل کا مسودہ تیار کرنے جیسے کام خودکار طور پر انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم زیادہ تر عملی فیچرز صرف اپ گریڈ کرنے پر دستیاب ہیں جس سے مجموعی تجربہ محدود محسوس ہوتا ہے۔
فی الحال یہ براؤزر صرف میک آپریٹنگ سسٹم کے لیے دستیاب ہے، جبکہ ونڈوز اور موبائل ورژن زیرِ تکمیل ہیں۔ مجموعی طور پر چیٹ جی پی ٹی ایٹلس ایک دلچسپ اور جزوی طور پر مفید کوشش ہے، مگر ابھی یہ اتنا قابلِ اعتماد نہیں کہ مکمل طور پر گوگل کروم یا دیگر براؤزرز کی جگہ لے سکے۔







