متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے انور قرقاش نے ایرانی مالی سہولیات اور لیبر ریزیڈنسی منسوخی کی خبروں کو مسترد کر دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے یو اے ای کے خلاف پھیلائی جانے والی مختلف خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے بیان میں ان افواہوں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یو اے ای میں لیبر ریزیڈنسی منسوخ کی جا رہی ہیں یا ایران کو مالی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ پلیٹ فارمز "مایوس کن میڈیا مہمات” کے ذریعے یو اے ای کے خلاف غلط معلومات پھیلا رہے ہیں جبکہ ملک علاقائی صورتحال سے نمٹنے اور مستقبل کے مرحلے کی تیاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انور قرقاش نے کہا کہ جھوٹی خبروں کا بہترین جواب عملی کامیابیاں اور ٹھوس اقدامات ہیں۔

ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی لین دین معطل

یو اے ای وزارت خارجہ کی اسٹریٹجک کمیونیکیشن ڈائریکٹر عفرا الہمیلی نے بھی اعلان کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری تبادلے اور مالی لین دین عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب 18 اگست کو یو اے ای کے دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کیا۔ حکام کے مطابق دونوں میزائل سمندر میں گر گئے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

28 فروری کو شروع ہونے والی علاقائی جنگ کے بعد یو اے ای کو ایران کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق ملک کی جانب تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرونز بھیجے گئے۔

14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ معاہدہ 17 اگست کو 60 دن مکمل ہونے کے بعد بغیر کسی حتمی پیش رفت کے ختم ہو گیا۔

حالیہ دنوں میں خطے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ یو اے ای کی توانائی کمپنی ادنوک کے مطابق اس کے ٹینکرز کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں تیسری بار نشانہ بنایا گیا۔

ادنوک کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے 18 بحری جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں ایک عملے کا رکن جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button