خلیج اردو آن لائن:
کورنا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں کاروبار متاثر کیے ہیں، کاروباروں میں مندی کا رجحان رہا جس کا نتیجہ تنخواہوں کٹوتیاں اور ملازمین نوکریوں سے فارغ کرنے کی شکل میں نکل رہا۔ لیکن کورونا کی وجہ سے کاروباری کمپنیاں اب کیا سوچ رہی ہیں اور مستقبل میں انکے منصوبے کیا ہیں، ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے ایک امریکی کمپنی مرسر نے ایک سروے کیا ہے جس کہ متحدہ عرب امارات کے حوالے سے نتائج درج ذیل ہیں:
مرسر سروئے کے مطابق کورونا کے تنخواہوں اور دیگر مراعات پر ہونے والے اثرات توقعات سے کم برے رہے ہیں۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات کی 10 فیصد کمپنیوں نے تنخواہوں میں عارضی کمی کی ہے جبکہ 30 فیصد کمپنیاں ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
سروے کے مطابق یو اے ای مارکیٹ میں مجموعی طور پر تنخواہوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور 25 فیصد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ملازمین کے گھروں سے کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا۔
اس سروے میں یو اے ای 500 کمپنیوں کا سروے کیا گیا تھا۔ جس نتائج کے مطابق تنخواہوں سالانہ اضافہ 3 اشاریہ 8 فیصد رہا، جبک 19 اشاریہ 4 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2020 میں تنخوہوں میں اضافہ روک دیا تھا۔
اور اس سال تنخواہوں اور بجٹ کے فیصلے سال کے شروع میں حکومت کی طرف سے لگائے گئے لاک ڈاؤن سے پہلے کیئے گئے تھے۔ جبکہ17 فیصد کمپنیوں نے کورونا کی وجہ سے تنخواہوں میں اضانہ چھ ماہ کے لیے مؤخر کیا ہے۔
سروے میں 2021 میں تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2021 میں جنرل مارکیٹ کی تنخواہوں میں اضافہ 4 رہنے کا امکان ہے۔ جبکہ صنعتی شعبے کے اعداد و شمار مختلف ہیں۔
لائف سائنس میں تنخواہوں میں اضافہ 4 اشاریہ 5 فیصد دیکھا جا رہا ہے جبکہ کنزیومر گڈز کی صنعت میں تنخواہوں اضافہ 3 اشاریہ 8 فیصد متوقع ہے۔ اور صنعتی شعبے میں تنخوہوں میں سب سے کم 1 اشاریہ 9 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
کورونا وائرس کے باعث 66 فیصد کمپنیوں نے گھر سے کام کرنے کی پالیسیاں تیار کی ہیں جبکہ 25 فیصد کے پاس پہلے سے ہی ایسی پالیسیاں موجود تھیں۔ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے ایک چوتھائی ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
سروے کے نتائج کی مطابق متحدہ عرب امارات میں کورونا کے باعث 2020 میں صرف 30 فیصد کمپنیوں نے 10 فیصد ملازمین کو نوکری سے نکالا ہے اور ملازمین کو نکالے جانے کی شرح مختلف شعبوں میں مختلف ہے۔ سب سے زیادہ ملازمین کو ریٹیل سیکٹر میں نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔
جبکہ لاجسٹک سیکٹر میں 2020 میں زیادہ ملازمین بھرتی کیے گئے ہیں۔ اور یہ اضافہ آن لائن خریداری میں اضافے کے باعث گھروں میں ہر قسم کی اشیاء ڈلیور کرنے کی طلب پوری کرنے کے لیے ہوا۔
بہرحال اس سروے میں نئے سال کا آغاز کے حوالے سے اچھی امید کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ کمپنیاں ملازمین کی بھرتی کے حوالے مثبت رویہ ظاہر کر رہی ہیں۔ اس لیے امید کی جاتی ہے کہ نئے سال کے آغاز سے کورونا کے اثرات میں مزید کمی آئے گئی اور کاروبار زندگی پہلے سےبہتر ہوگا۔
Source: Khaleej Times







