
خلیج اردو
فلپائن میں سیلاب کے باعث خطرناک بیماری پھیلنے لگی، 3 ہزار 440 کیسز رپورٹ، 220 افراد جاں بحق
فلپائن میں مون سون بارشوں اور مسلسل سیلاب کے باعث لیپٹوسپائروسس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوگیا، محکمہ صحت کے مطابق یکم جنوری سے 8 اگست 2026 تک ملک بھر میں 3 ہزار 440 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 220 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
دارالحکومت منیلا اور ملحقہ علاقوں میں اگست کے آغاز سے بیماری کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، سیلابی پانی میں چوہوں کے پیشاب سے آلودگی بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔
فلپائن کے بڑے اسپیشلائزڈ ہسپتال نیشنل کڈنی اینڈ ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ نے لیپٹوسپائروسس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث عارضی طور پر واک اِن مریضوں کو داخل کرنے سے روک دیا، ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے بھر گیا جبکہ جمنازیم کو عارضی اضافی وارڈ میں تبدیل کردیا گیا۔
لیپٹوسپائروسس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیکٹیریا کی بیماری ہے، متاثرہ جانوروں خصوصاً چوہوں کے پیشاب سے آلودہ پانی یا مٹی جلد پر موجود زخم، آنکھ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فلپائن میں زیادہ تر افراد سیلابی پانی میں چلنے کے دوران اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں تاہم بیماری سنگین صورت اختیار کرکے گردوں سمیت اہم اعضا کو متاثر کرسکتی ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہر متعدی امراض ڈاکٹر روٹگین سولانتے نے منیلا میں سیلابی پانی سے گزرنے پر مجبور افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد جسم کو اینٹی بیکٹیریل صابن سے اچھی طرح دھوئیں، ان کے مطابق سیلابی پانی سے متاثر ہونے کے 24 سے 48 گھنٹے کے اندر طبی مشورہ لینا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق منیلا میں ناقص نکاسی آب، پمپنگ اسٹیشنز کی کمزور کارکردگی، دریائی پشتوں اور حفاظتی نظام کے مسائل بھی سیلاب کی شدت بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں، ناقص ڈیزائن، غیر معیاری تعمیرات اور مبینہ جعلی منصوبوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام نے شہریوں سے سیلابی پانی میں جانے سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشوں کے باعث لیپٹوسپائروسس کے کیسز میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔






