خلیج اردو آن لائن:
شارجہ میں فیملیز کے لیے مخصوص رہائشی علاقوں کو کنواروں اور مزدوروں سے خالی کروانے کی مہیم تیز کر دی گئی ہے اور اس مہم کے دوران حکام کی جانب سے مختلف علاقوں میں سے 3 ہزار 936 مزدوروں اور کنواروں کو نکال دیا گیا ہے۔
یہ مہیم شارجہ کے حکمران ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمد القاسمی کے حکم کے بعد شروع کی گئی ہے۔ اس حکم نامے کے مطابق فیملیز کے لیے مخصوص رہائشی علاقوں میں سے کنواروں کو اور مزدوروں کو نکال دیا جائے۔
شارجہ میونسپلٹی کے ڈائریکٹر جنرل تہبط التعریفی کا کہنا تھا کہ بلدیہ کے انسپکٹر شارجہ پولیس اور شارجہ الیکٹریسٹی کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر یہ مہیم چلا رہے ہیں تاکہ شیخ سلطان کے حکم نامے پر عمل در آمد کیا جا سکے۔
انکا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران ” ابتک 1514 کے قریب انسپکشنز کی جا چکی ہیں۔ جس کے نتیجے میں اب تک 184 گھروں سے 3 ہزار 936 غیر شادی شدہ افراد اور مزدوروں کو نکال دیا گیا ہے، اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 161گھروں بند کر دیا گیا ہے”۔
التعریفی کا مزید کہنا تھا کہ مزدوروں اور کنواروں کو رہائشی علاقوں سے نکالنے کا حکم دینے کا مقصد فیملیز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور مزدور اور کنوارے حفظان صحت کے اصولوں پر بھی عمل نہیں کرتے اس لیے کورونا کی وبا کے دوران یہ مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
شیخ سلطان نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
یہ فیصلہ ایک خاتون کی جانب سے 27 ستمبر بروز اتوار کے روز شارجہ کے ٹی وی اور ریڈیو کو کی گئی ایک کال کے بعد کیا گیا۔ خاتون نے کال کے دوران رہائشی علاقوں میں مزدوروں اور کنواروں کی علاقے میں موجودگی کے حوالے سے شکایت کی تھی۔
شکایت کنندہ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے علاقے میں کنوارے افراد اور مزدوروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کے باعث وہ خود کو اپنے بچوں کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔
جس کے فوری بعد ڈاکٹر شیخ سلطان نے شارجہ میونسپلٹی اور شارجہ پولیس کو علاقہ کنواروں اور مزدوروں سے خالی کروانے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس حکم کے بعد شارجہ میونسپلٹٰی نے پولیس کے ساتھ مل کر علاقے کا معائنہ شروع کر دیا ہے اور مختلف گھروں کو نوٹس جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔
Source: Gulf News







