متحدہ عرب امارات

شارجہ میں 5 سالہ بچے نے 52 مقناطیسی دانے نگل لیے، بروقت آپریشن نے جان بچا لی

خلیج اردو
شارجہ میں ایک پانچ سالہ بچے کے جسم سے 52 مقناطیسی دانے کامیاب آپریشن کے ذریعے نکال لیے گئے، جس کے بعد متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ چھوٹی مقناطیسی اشیاء بچوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

بچے کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک مقناطیسی دانہ منہ میں ڈالتے دیکھا تو فوراً اسے نکال لیا اور سمجھا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ تاہم انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ درجنوں مقناطیسی دانے پہلے ہی بچے کے جسم میں جا چکے تھے۔

چند ہفتوں تک بچے کو کبھی کبھار پیٹ میں تکلیف اور قے کی شکایت رہی، لیکن علامات خود بخود ختم ہو جاتی تھیں۔ اہل خانہ نے اسے معمولی بیماری سمجھا، جبکہ حقیقت میں مقناطیسی دانے آنتوں کے اندر شدید نقصان پہنچا رہے تھے۔

جب تیسری مرتبہ قے شروع ہوئی اور بچہ کمزور، پانی کی کمی کا شکار اور کھانا ہضم کرنے سے قاصر ہو گیا تو اسے شارجہ کے NMC Royal Hospital Sharjah منتقل کیا گیا۔

ماہر اطفال ڈاکٹر رامیا دالاتی نے فوری طور پر بچے کو اسپتال میں داخل کر کے علاج شروع کیا۔ ایکسرے اور دیگر اسکینز سے معلوم ہوا کہ بچے کی چھوٹی آنت میں 52 مقناطیسی دانے موجود ہیں۔

ڈاکٹروں نے ابتدا میں اینڈوسکوپی کے ذریعے انہیں نکالنے کی کوشش کی، لیکن دانے آنتوں میں بہت اندر جا چکے تھے۔ بعد ازاں ہنگامی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

ماہر جراح ڈاکٹر وسام تمر کے مطابق مختلف حصوں میں موجود مقناطیسی دانے ایک دوسرے سے چپک گئے تھے، جس کی وجہ سے آنتوں کے ٹشوز درمیان میں پھنس گئے اور خاموشی سے شدید اندرونی نقصان ہوتا رہا۔

آپریشن کے دوران آنتوں میں متعدد سوراخ، شدید سوزش اور انفیکشن پایا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے کامیابی سے تمام 52 مقناطیسی دانے نکال کر آنتوں کی مرمت کر دی اور کسی حصے کو کاٹنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

آپریشن کے بعد بچے کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا جہاں چند روز کے علاج کے بعد اس کی حالت بہتر ہو گئی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ کھانے پینے کے قابل ہو گیا اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button