متحدہ عرب امارات

وینزویلا میں 7.5 شدت کے طاقتور زلزلے، عمارتیں منہدم، ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ

خلیج اردو
جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ دارالحکومت کراکاس سمیت متعدد علاقوں میں عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ 7.2 شدت کا تھا جس کا مرکز کراکاس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا۔ اس کے ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی اندازے میں خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی کا خدشہ موجود ہے۔

عبوری صدر Delcy Rodríguez نے ہنگامی حالت نافذ کرنے اور بحالی کے کاموں کیلئے بین الاقوامی مالی معاونت طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی۔

وزیر داخلہ Diosdado Cabello نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ متعدد عمارتیں اور رہائشی مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں جبکہ تمام دستیاب وسائل کے ساتھ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

کراکاس کے علاقے چاکاؤ کے میئر Gustavo Duque کے مطابق کئی عمارتیں گر چکی ہیں اور ایک عمارت کے ملبے سے اب تک 18 افراد کو زندہ نکالا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر کھلے مقامات پر رہنے کی ہدایت کی۔

ساحلی ریاست فالکون کے گورنر Victor Clark نے بتایا کہ کم از کم 22 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 15 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

زلزلے کے وقت وینزویلا میں قومی تعطیل تھی اور بیشتر لوگ اپنے گھروں میں موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق شدید جھٹکوں کے دوران لوگ خوفزدہ ہو کر عمارتوں سے باہر نکل آئے جبکہ کئی مقامات پر سامان اور دیواریں گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

حکام کے مطابق دارالحکومت کے کئی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ کراکاس کے قریب واقع ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بھی نقصان کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ہفتے کے باقی دنوں کیلئے تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر سونامی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی جس میں پورٹو ریکو، امریکی اور برطانوی ورجن جزائر سمیت کئی علاقوں کو خبردار کیا گیا، تاہم تقریباً ایک گھنٹے بعد یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button