
خلیج اردو
سال 2025 میں متحدہ عرب امارات نے خود کو ایک عالمی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر مستحکم کر لیا، جہاں سرکاری اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شرح 97 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ملک میں پروگرامرز کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ یہ سال جدید ٹیکنالوجی، عالمی شراکت داریوں اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث امارات کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔
سال کے دوران ابوظبی میں پانچ گیگاواٹ پر مشتمل متحدہ عرب امارات اور امریکا کا مشترکہ اے آئی کیمپس قائم کیا گیا، جو امریکا سے باہر دنیا کا سب سے بڑا سپرکمپیوٹنگ کلسٹر قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ’اسٹارگیٹ یو اے ای‘ منصوبہ بھی متعارف کرایا گیا، جو جی 42، اوپن اے آئی، اوریکل، سسکو، سافٹ بینک اور اینویڈیا کے اشتراک سے ایک گیگاواٹ کی صلاحیت کے ساتھ شروع کیا گیا، جس کا پہلا مرحلہ 2026 میں متوقع ہے اور اس میں جدید اینویڈیا گریس بلیک ویل سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔
عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور فرانس کے درمیان مصنوعی ذہانت کا فریم ورک تشکیل دیا گیا، جس میں ایک گیگاواٹ کا ڈیٹا سینٹر، قابلِ تجدید توانائی، جدید سیمی کنڈکٹرز اور مشترکہ تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح یو اے ای کی کمپنی ایم جی ایکس نے بلیک راک، مائیکروسافٹ، اینویڈیا اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اے آئی انفرااسٹرکچر پارٹنرشپ کا آغاز کیا، جس کے تحت ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے منصوبوں میں ایک کھرب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا۔
عالمی فلاح کے لیے بھی امارات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جی 20 اجلاس میں ’اے آئی فار ڈیولپمنٹ‘ اقدام کے تحت ایک ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا، جبکہ گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر 200 ملین ڈالر کا اے آئی ماحولیاتی نظام قائم کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں زرعی جدت کو فروغ دیا جا سکے۔
ملکی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی سرمایہ کاری 543 ارب درہم سے تجاوز کر گئی، جس میں مائیکروسافٹ اور کے کے آر جیسے عالمی اداروں کی بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔ تکنیکی میدان میں جیس 2 متعارف کرایا گیا، جو 70 ارب پیرا میٹرز پر مشتمل ایک جدید لینگویج ماڈل ہے اور 600 ارب عربی الفاظ پر تربیت یافتہ ہے، جبکہ کے ٹو تھنک کے نام سے اوپن سورس اے آئی ریژننگ سسٹم بھی پیش کیا گیا۔
ثقافتی اقدار کے تحفظ کے لیے ’اے آئی اِن دی رنگ‘ انڈیکس لانچ کیا گیا، جو دنیا میں پہلی بار اس بات کا پیمانہ بنا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز قومی ثقافت اور اقدار سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔ مختلف شعبوں میں اے آئی کے انضمام کے نتیجے میں ایک قومی مطالعے سے سامنے آیا کہ 44 فیصد اماراتی ادارے صحت، مالیات اور سیکیورٹی سمیت 91 خصوصی استعمالات میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ استعمال کر رہے ہیں۔
سرکاری شعبے میں دنیا کا پہلا اے آئی پر مبنی قانون سازی تجزیاتی نظام متعارف کرایا گیا، جبکہ ایک اے آئی سے چلنے والا ہیومن ریسورس اسسٹنٹ 50 ہزار سے زائد ملازمین کو خدمات فراہم کر رہا ہے اور 108 سرکاری خدمات کو خودکار بنا چکا ہے۔ تعلیمی میدان میں حمدان بن محمد اسمارٹ یونیورسٹی نے اے آئی کے استعمال سے اساتذہ کے کام کا بوجھ 95 فیصد تک کم ہونے کی اطلاع دی، جس کے ساتھ طلبہ کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی۔
سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں یو اے ای کابینہ نے گوگل کلاؤڈ کے اشتراک سے سائبر سیکیورٹی ایکسی لینس سینٹر قائم کیا، جس سے 20 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے اور قومی سائبر سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کی توقع ہے۔







