خلیج اردو آن لائن:
ماں کی ممتا اپنے بچوں کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے اس کا انداز آپ کو اس واقع سے ہوگا۔ راس الخیمہ میں ایک اماراتی ماں نے گھر میں لگنے والی آگ میں اپنے بیٹے کو آگ میں جھلسنے سے بچا لیا لیکن خود اس وقت ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ واقع ہفتے کی رات راس الخیمہ شہر کے 25 کلومیٹر جنوب میں کھاٹ کے علاقے میں پیش آیا۔
ماں کی ممتا بیٹے کو آگ میں جھلستا نہیں دیکھ سکتی تھی لہذا بیٹے کو بچاتے ہوئے خود 50 فیصد تک جل گئی۔
ام ماید نے جب آگ کے شعلوں کو دیکھا تو اسے خیال آیا کہ اس کے دونوں بیٹے گھر میں پھنس گئے ہیں۔ لیکن بڑے بیٹا آگ لگتے ہی کمرے کی کھڑکی سے کود گیا لیکن 22 سالہ چھوٹا بیٹا ابھی بھی گھر کے اندر تھا۔
ماں بیٹے کو بچانے کے لیے گھر کے جس حصے میں آگ لگی تھی اس کی طرف بھاگی اور آگ سے ڈرے بغیر اپنے بیٹے کو کھڑکی تک جانے اور دوسرے افراد کو مدد کے لیے بلانے میں مدد کی۔
بیٹےکی چیخیں سننے کے بعد، بڑا بیٹا، خاندان کے دیگر افراد اور ہمسائے دھوئیں سے بھرے ہوئے کمرے تک پہنچے اور انہیں نکال کر محفوظ جگہ پر لے گئے۔
بیٹے کو بچاتے ہوئے ماں دوسرے اور تیسرے درجے تک جل گئی، تاہم بیٹے کو پاؤں، بازوں اور ہاتھ پہلے درجے تک جھلس گئے۔ بڑے بیٹے کے بازو کچھ حد تک جلے۔ تاہم ماں اور بیٹے کو فورا ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ام ماید کے دوسرے بیٹے سعود ترکی نے بتایا کہ اس کی ماں اپنے کمرے میں سو رہی تھی جب اسے دھویں کی بدبو سے گھر میں آگ لگنے کا پتہ چلا۔
ترکی کا کہنا تھا کہ جب ہم نے ماں سے پوچھا کہ وہ جلتے گھر سے باہر کیوں نہیں آئی تو وہ محض اتنا کہ پائی کہ "میں اپنے بچوں حفاظت کے لیے مرنے کو تیار ہوں”۔
Source: Khaleej Times







