متحدہ عرب امارات

امارات روڈ کا 750 ملین درہم کا منصوبہ، شہریوں کے لیے "نعمت” قرار

خلیج اردو
شارجہ: متحدہ عرب امارات میں شہریوں نے امارات روڈ کی ازسرِنو توسیع کے منصوبے پر خوشی اور شکر گزاری کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ توانائی و انفراسٹرکچر کی جانب سے اعلان کردہ 750 ملین درہم کے اس منصوبے سے ملک کے ایک مصروف ترین ٹریفک راستے کو جدید بنانے کی امید ہے۔

اس منصوبے کے تحت شارجہ میں انٹرسیکشن نمبر 7 کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جس میں سڑکوں کی کشادگی اور چھ پلوں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ شاہراہ مشرقی، وسطی اور شمالی شہروں کو دبئی اور ابوظبی سے جوڑتی ہے اور روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے اس کی اہمیت کلیدی ہے۔

شارجہ کے رہائشی محمد الحمادی، جو ہر ہفتے شارجہ اور ابوظبی کے درمیان سفر کرتے ہیں، نے اس منصوبے کو "نعمت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ انٹرسیکشن تمام شہروں کو جوڑتا ہے۔ مشرقی، وسطی اور شمالی علاقوں سے آنے والے لوگ اس راستے سے دبئی، ابوظبی اور شارجہ کے اندرونی علاقوں کی جانب جاتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالے گا، انہیں خوشی دے گا، اور سفر کے اوقات کو کم کر کے کم از کم ایک گھنٹہ بچائے گا۔

شہریوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی

الزبیریہ، شارجہ کے رہائشی عبداللہ الشاعر، جو روزانہ اس راستے پر سفر کرتے ہیں، نے کہا: "یہ راستہ دبئی اور ابوظبی پہنچنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ اس کی توسیع ایک مثبت قدم ہے جو ٹریفک کی روانی بہتر کرے گا اور زندگی کے معیار کو بلند کرے گا۔”

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ توسیعی کام اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا اور دورانِ تعمیر ڈرائیورز کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی طرح، شارجہ کی مشاورتی کونسل کے رکن محمد احمد الظہوری نے بھی اس منصوبے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا: "یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ یہ قیادت کی مستقل توجہ، عوامی مطالبات، اور مسلسل پیروی کا نتیجہ ہے۔”

انہوں نے حکومت اور ذمہ دار ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "یہ منصوبے ملک کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔”

شارجہ کی رہائشی، ریِم حسن نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ توسیع میرے اور میرے خاندان کے سفر میں وقت کی بچت کرے گی، کیونکہ ہم اکثر دبئی کا سفر کرتے ہیں۔”

اہم نکات اور خصوصیات

امارات روڈ کی یہ 25 کلومیٹر طویل توسیع البدی انٹرسیکشن سے شروع ہو کر اُم القوین تک جائے گی، جس پر کام ستمبر 2025 میں شروع ہوگا۔ منصوبے کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • سڑک کی کشادگی: دونوں سمتوں میں 3 سے 5 لینز تک توسیع

  • پلوں کی تعمیر: انٹرسیکشن نمبر 7 پر 6 نئے پل، مجموعی لمبائی 12.6 کلومیٹر

  • گنجائش میں اضافہ: 9,000 گاڑیوں فی گھنٹہ کی گنجائش

  • کلکٹر روڈز: دونوں اطراف 3.4 کلومیٹر لمبے نئے راستے

  • ٹریفک لینز: 70 کلومیٹر نئی ٹریفک لینز کا اضافہ

منصوبے کی تکمیل کے بعد سفر کے دورانیے میں 45 فیصد کمی اور سڑک کی گنجائش میں 65 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو یو اے ای کے وفاقی سڑکوں کے نیٹ ورک کے بڑے مسائل کو حل کرے گا۔

شہریوں کے لیے یہ منصوبہ صرف انفراسٹرکچر کی بہتری نہیں بلکہ اپنے پیاروں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور روزمرہ کی ٹریفک سے نجات کا ذریعہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button