
خلیج اردو
ابوظہبی: ابوظہبی کی کمرشل عدالت نے ایک کار رینٹل کمپنی کا سابق صارف کے خلاف دائر 18 ہزار 650 درہم کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی گاڑی کی اصل واپسی کی تاریخ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
مقدمہ اس بنیاد پر دائر کیا گیا تھا کہ صارف (جسے عدالتی دستاویزات میں مدعا علیہ قرار دیا گیا ہے) پر معاہدے کے اختتام کے بعد ٹریفک چالان، انتظامی فیس اور مبینہ نقصانات کی مد میں واجبات ہیں۔ کمپنی نے دعوے کے ساتھ 12 فیصد سالانہ سود اور 3 ہزار 150 درہم مشاورت فیس کی بھی درخواست کی تھی۔
مدعی کمپنی کے مطابق معاہدہ پہلے ہی ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ختم ہو چکا تھا، لیکن گاڑی تقریباً ایک سال بعد واپس کی گئی۔ اس دوران مختلف ٹریفک خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں جن کا جرمانہ صارف نے بار بار یاد دہانیوں کے باوجود ادا نہیں کیا۔
تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیس میں پیش کی گئی فائل میں کہیں بھی یہ ثبوت نہیں ہے کہ گاڑی کس تاریخ کو واپس کی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ مدعی کی جانب سے پیش کیا گیا دعویٰ قابل اعتبار شواہد سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مقدمے میں پیش کردہ کنسلٹنسی رپورٹ میں بھی ان دستاویزات کا ذکر نہیں تھا جن کی بنیاد پر واپسی کی تاریخ طے کی گئی ہو۔
عدالت کے مطابق چونکہ ثبوت فراہم کرنا مدعی کی ذمہ داری تھی اور وہ اس میں ناکام رہا، اس لیے کیس کو موجودہ شکل میں خارج کر دیا گیا۔ ساتھ ہی کمپنی کو عدالتی اخراجات اور قانونی فیس بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔






