
خلیج اردو
ابوظبی سول فیملی کورٹ نے ایک غیر معمولی فیصلے میں غیر ملکی بچے کی ماں کی بہن یعنی خالہ کو مکمل قانونی اور جسمانی سرپرستی دے دی ہے۔ عدالت نے بچے کے والد کو اس کی دیکھ بھال کے لیے ناموزوں قرار دیتے ہوئے خالہ کو بچے کی پرورش، تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر اہم معاملات سے متعلق تمام فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا۔
23 جولائی کے فیصلے کے تحت خالہ کو بچے کے شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ کے حصول اور تجدید کے لیے بھی والد کے دستخط یا اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وکلا کے مطابق یہ فیصلہ ایسے غیر ملکی خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں والدین میں سے کوئی بچہ پالنے کے قابل نہ ہو یا خاندان کے کسی دوسرے فرد کے پاس بچے کی عملی ذمہ داری موجود ہو۔
خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل بائرن جیمز کے مطابق ان کی ٹیم کے علم میں یہ ابوظبی سول فیملی کورٹ کا ایسا پہلا فیصلہ ہے جس میں کسی غیر والدین رشتہ دار کو بچے کی مکمل جسمانی اور قانونی تحویل کے ساتھ اس کے شناختی دستاویزات آزادانہ طور پر تجدید کرانے کا اختیار دیا گیا ہے۔
یہ کیس ایک ایسے کم عمر بچے سے متعلق تھا جو پہلے ہی متحدہ عرب امارات میں اپنی خالہ اور ان کے شوہر کے ساتھ رہ رہا تھا جبکہ اس کا والد بیرون ملک مقیم تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق بچے کی والدہ کا 2021 میں جگر کی خرابی کے باعث انتقال ہوگیا تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی تصدیق شدہ طبی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچے کے والد ماضی میں قید کی سزا کاٹ چکے تھے اور ان پر ایسے متعدد معاملات میں الزامات عائد ہوئے تھے جن میں دوسروں کو خطرات، جسمانی و جنسی نقصان اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق الزامات شامل تھے۔
بچے کی خالہ اور ان کے شوہر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں بچے کا قانونی سرپرست اور عملی نگہداشت کرنے والا مقرر کیا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ بچے کو ابوظبی میں مستحکم گھر، تعلیم، جذباتی سہارا اور روزمرہ ضروریات کی دیکھ بھال فراہم کر رہے ہیں۔
درخواست کے ساتھ کرائے کے گھر کا درست معاہدہ اور ماہرین کی رپورٹس سمیت مختلف شواہد بھی جمع کرائے گئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بچے کو مستقل رہائش، خطرات سے تحفظ اور تعلیمی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
والد کو عدالتی کارروائی سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا تاہم وہ کسی سماعت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی درخواست کی مخالفت کی۔ عدالت نے ان سے منسوب ایک تحریری بیان کو بھی مدنظر رکھا جس میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ خالہ اور ان کے شوہر بچے کے لیے زیادہ موزوں ہیں کیونکہ وہ اسے مستحکم خاندانی ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بچے کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ وہ اپنی خالہ اور ان کے شوہر کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں رہے اور ایسے ماحول سے دور ہو جس نے اسے مشکلات اور ناخوشگوار تجربات سے دوچار کیا۔
عدالت نے ابوظبی کے سول میرج اینڈ ڈائیورس پروسیجرز ریگولیشنز کے آرٹیکل 43 پر بھی انحصار کیا جس کے تحت ججوں کو بچوں کی تحویل کے معاملات میں انصاف اور مساوات کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دینا ہوتی ہے۔
فیصلے کے تحت خالہ کو بچے کی پرورش، تعلیم، علاج، رہائش اور جسمانی و ذہنی فلاح سے متعلق تمام معاملات میں مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ انہیں بچے کا پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات حاصل کرنے اور ان کی تجدید کرانے کی بھی اجازت ہوگی، جس کے لیے والد کی رضامندی درکار نہیں ہوگی۔
وکیل بائرن جیمز کے مطابق غیر ملکی خاندانوں میں ایسی صورتحال عام ہے جہاں والدین کی وفات، غیر موجودگی یا نااہلی کے باعث دادا دادی، نانا نانی، خالہ، ماموں یا بہن بھائی بچوں کی ذمہ داری سنبھال لیتے ہیں۔
تاہم صرف غیر رسمی انتظامات یا اپنے ملک میں جاری کیے گئے سرپرستی کے دستاویزات کو متحدہ عرب امارات میں اسکولوں، ہسپتالوں اور امیگریشن حکام کے سامنے ہمیشہ خودکار قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق ابوظبی کی عدالت کا یہ حکم ایسے خاندانوں کو عملی مسائل سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے کیونکہ مقامی عدالت کا تسلیم شدہ حکم بچے کے اسکول میں داخلے، طبی علاج کی اجازت، رہائشی ویزا اور سرکاری شناختی دستاویزات کی تجدید جیسے معاملات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات کی عدالتیں ایسے فیصلوں کو لازمی عدالتی نظیر کے طور پر لاگو نہیں کرتیں، تاہم وکیل کے مطابق یہ فیصلہ ان رشتہ داروں کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے جو غیر معمولی حالات میں کسی بچے کی تحویل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایسے معاملات میں عدالت کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ والدین وفات پا چکے ہیں، غیر حاضر ہیں یا بچے کی نگہداشت کے لیے ناموزوں ہیں اور بچے کے بہترین مفاد میں کسی دوسرے رشتہ دار کے ساتھ رہنا زیادہ مناسب ہے۔







