متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں بیک ٹو اسکول تیاریوں کا آغاز، سیکنڈ ہینڈ اسٹڈی ٹیبلز اور بک کیسز والدین کی توجہ کا مرکز بن گئے

متحدہ عرب امارات میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل والدین نے اسکول کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس مرتبہ یونیفارم اور اسٹیشنری کے ساتھ ساتھ گھر میں بچوں کے لیے مناسب اسٹڈی اسپیس بنانے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

مارکیٹ پلیٹ فارم ڈبیزل پر سرچ کے تازہ رجحانات کے مطابق سیکنڈ ہینڈ فرنیچر والدین میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ اسٹڈی ٹیبلز سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی کیٹیگری بن گئی ہیں جبکہ ایرگونومک کرسیاں، بک کیسز اور ٹیبل و چیئر کے مکمل سیٹس کی تلاش میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اسٹڈی ٹیبل اور چیئرز سے متعلق سرچز میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 1,450 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بک کیسز کی تلاش میں 248 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

والدین ایسے فرنیچر کی بھی تلاش کر رہے ہیں جو کم جگہ میں زیادہ سہولت فراہم کرے۔ خاص طور پر ایسے بنک بیڈز میں دلچسپی بڑھ رہی ہے جن کے ساتھ اسٹڈی ڈیسک بھی نصب ہو، تاکہ بچوں کے سونے اور پڑھنے کے لیے ایک ہی جگہ استعمال کی جا سکے۔

سیکنڈ ہینڈ اور مفت فرنیچر کی طرف بھی والدین کا رجحان بڑھا ہے۔ فری اسٹڈی ٹیبلز کی سرچز میں ماہانہ بنیاد پر 163 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان بیک ٹو اسکول اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ اچھی حالت میں موجود استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ استعمال کرنے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔

ڈبیزل کے سینیئر ڈائریکٹر اسٹریٹیجی میٹ گریگوری کے مطابق بیک ٹو اسکول خریداری اب صرف روایتی اسکول سپلائز تک محدود نہیں رہی بلکہ خاندان نئے تعلیمی سال سے پہلے گھر میں آرام دہ اور مناسب تعلیمی ماحول بنانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق استعمال شدہ فرنیچر اور دیگر اشیا خریدنے سے خاندان پیسے بچانے کے ساتھ ساتھ معیاری مصنوعات کو دوبارہ استعمال میں لا کر ماحول پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کم کر سکتے ہیں۔

اسکول بیگز اور کتابوں کی مانگ بھی برقرار

اسکول بیگز بھی والدین کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ عام بیک پیکس کے ساتھ مہنگے اور پریمیم برانڈز کے بیگز میں بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

ڈبیزل کے مطابق TUMI بیک پیکس کی سرچز میں تقریباً 65 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ Louis Vuitton کے بیک پیکس بھی زیادہ تلاش کیے جانے والے پریمیم آئٹمز میں شامل ہیں۔ بعض سیلرز کی جانب سے Dior کی اصل نوٹ بکس اور Gucci کے بیک پیکس بھی فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

فرنیچر اور اسکول بیگز کے علاوہ نصابی کتابیں بھی والدین اور طلبہ کی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ نئی کتابیں خریدنے کے بجائے استعمال شدہ کتابیں کم قیمت میں حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

کچھ والدین نوٹ بکس اور دیگر تعلیمی سامان بھی تلاش کر رہے ہیں جبکہ پلیٹ فارم پر لیپ ٹاپس اور بالکل نئی اور غیر استعمال شدہ نوٹ بکس بھی فروخت کے لیے موجود ہیں۔

تازہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای میں خاندان موسمی ضروریات اور خاص طور پر بیک ٹو اسکول خریداری کے لیے ری کامرس یعنی استعمال شدہ اشیا کی خرید و فروخت کو زیادہ عملی اور کم خرچ طریقے کے طور پر اپنا رہے ہیں۔

استعمال شدہ فرنیچر، کتابیں اور اسکول کا سامان خرید کر والدین نہ صرف اخراجات کم کر رہے ہیں بلکہ قابلِ استعمال اشیا کو دوبارہ استعمال میں لا کر فضلہ کم کرنے اور سرکلر اکانومی کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button