
خلیج اردو
ابوظبی کی سول فیملی کورٹ نے طلاق یافتہ جرمن جوڑے کو دونوں بچوں کے مالی اخراجات برابر تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اخراجات میں ماہانہ نان نفقہ، اسکول فیس، ہیلتھ انشورنس، طبی علاج، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اخراجات شامل ہیں۔
23 جون کو جاری ہونے والا یہ فیصلہ اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ عدالت نے بچوں کے نان نفقے کا تعین جرمن قانون کے تحت کیا۔ والد نے عدالت سے خصوصی طور پر جرمن قانون کے اطلاق کی درخواست کی تھی اور متعلقہ جرمن قانون کی تصدیق شدہ نقل بھی جمع کرائی تھی۔
عدالت نے دونوں والدین کو ایک بیٹی کے لیے مقرر کیے گئے ماہانہ 4 ہزار درہم اور دوسری بیٹی کے لیے 5 ہزار درہم کے نان نفقے میں نصف نصف ادا کرنے کا حکم دیا۔ دونوں بچوں کی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات بھی والدین برابر تقسیم کریں گے۔
جرمن جوڑے کی جرمنی میں طلاق ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں 5 اور 12 سال ہیں۔ والد نے ابوظبی سول فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے جرمن قانون کے اطلاق اور دونوں والدین کو اپنی مالی استطاعت کے مطابق بچوں کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔
والدہ نے عدالت کے علاقائی دائرہ اختیار پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں فریق دبئی میں رہتے ہیں اس لیے مقدمہ دبئی کی عدالت میں چلنا چاہیے۔
تاہم ابوظبی کی عدالت نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ والد کے پاس ابوظبی کا درست رہائشی اجازت نامہ موجود ہے اور دونوں فریق سول فیملی کورٹ سے متعلق قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔
جرمن قانون کیوں لاگو کیا گیا؟
عدالت نے غیر ملکی قانون کے اطلاق کے حوالے سے وفاقی قانون نمبر 41 برائے 2022 کے آرٹیکل 1(3) کا حوالہ دیا۔ قانون کے مطابق مخصوص حالات میں غیر ملکی شہری اپنے ملک کے قانون کے اطلاق کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ جرمن شہری والد نے واضح طور پر جرمن قانون کے اطلاق کی درخواست کی، قانون کی تصدیق شدہ نقل جمع کرائی اور مقررہ فیس بھی ادا کی، اس لیے مقدمے میں جرمن قانون لاگو کیا جائے گا۔
عدالت نے اس کے بعد جرمن سول کوڈ میں بچوں کے نان نفقے سے متعلق دفعات کا جائزہ لیا۔
عدالت کے مطابق جرمن قانون نابالغ بچے کو والدین سے نان نفقے کا حق دیتا ہے جب بچے کی اپنی آمدنی یا اثاثے اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہوں۔ والدین کو اپنی دستیاب مالی استطاعت کے مطابق بچوں کے اخراجات پورے کرنا ہوتے ہیں۔
جرمن قانون کے تحت نان نفقے کی رقم بچے کی ضروریات اور عمر سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی جاتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ 5 سالہ بچی جرمن نظام کی پہلی عمر کیٹیگری میں آتی ہے جبکہ 12 سالہ بچی زیادہ عمر کی کیٹیگری میں شامل ہے، جس کے مطابق دونوں کے نان نفقے کی رقم مختلف بنتی ہے۔
دونوں والدین مالی طور پر ذمہ دار
عدالت نے نوٹ کیا کہ دونوں والدین کے درمیان مشترکہ تحویل کا انتظام موجود ہے۔ تعلیمی سال کے دوران والد جمعہ سے اتوار تک بچوں کی تحویل میں شریک ہوتا ہے جبکہ اسکول کی چھٹیوں میں بھی دونوں والدین مشترکہ طور پر بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں بچیوں کو مالی معاونت کی ضرورت ہے اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ان کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی مالی وسائل ہیں۔
چنانچہ عدالت نے دونوں والدین کو برابر مالی ذمہ داری ادا کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے کے مطابق والدین ماہانہ 4 ہزار اور 5 ہزار درہم کی مقررہ رقم میں نصف نصف ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ اسکول فیس، ہیلتھ انشورنس، طبی اخراجات، ٹرانسپورٹ اور بچوں سے متعلق دیگر تمام ضروری اخراجات بھی برابر تقسیم کیے جائیں گے۔
غیر ملکی قانون خود بخود لاگو نہیں ہوتا
مقدمے میں والد کی نمائندگی کرنے والے وکیل بائرن جیمز کے مطابق یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ابوظبی کا قانونی نظام مخصوص حالات میں غیر ملکی شہریوں کو اپنے ملک کے قانون کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی قانون خود بخود لاگو نہیں ہوتا بلکہ متعلقہ فریق کو اپنے ملک کے قانون کا انتخاب کرنا، اس کی تصدیق شدہ نقل فراہم کرنا اور مقررہ فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کی خاص بات یہ ہے کہ عدالت نے جرمن قانون کی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا اور بچوں کے نان نفقے کے لیے جرمن قانون میں مقرر عمر کی کیٹیگریز کو بھی لاگو کیا۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ عدالت نے بچوں کی مالی ذمہ داری صرف والد پر عائد کرنے کے بجائے دونوں والدین کو برابر اقتصادی ذمہ دار قرار دیا۔
یو اے ای کے قانونی نظام کے تحت اہل غیر ملکی شہری بعض ذاتی حیثیت کے معاملات میں اپنے ملک کے قانون کے اطلاق کی درخواست کرسکتے ہیں۔ ابوظبی میں غیر مسلم غیر ملکیوں کے لیے سول فیملی قانون کا الگ فریم ورک بھی موجود ہے۔
تاہم وکیل نے واضح کیا کہ غیر ملکی شہری اپنی مرضی سے کسی بھی مقدمے کے لیے ابوظبی کی عدالت کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ عدالت کا علاقائی دائرہ اختیار بھی ضروری ہے۔
موجودہ کیس میں عدالت نے والد کے ابوظبی کے درست رہائشی اجازت نامے کو اپنے دائرہ اختیار کے قیام کے لیے کافی قرار دیا، حالانکہ والدہ کا مؤقف تھا کہ دونوں فریق دبئی میں رہائش پذیر ہیں۔







